30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وجعل لہ نسبا وصھرا وافضل الصلٰوۃ والسلام علی سیدنا الانام واٰلہ الکرام وصحبہ العظام علی الدوام۔ |
پیدا فرمایا اور اس کے لیے نسب اور رشتہ ازدواج بنایا،بہترین صلوٰۃ وسلام کائنات کے آقا اور اس کی برگزیدہ آل اور اس کے صحابہ عظام پر،دائمی ہو،(ت) |
زوجہ زید اس پر حرام ہوگئی اگرچہ اسے اس واقعہ شنیعہ کا علم بھی نہ ہوتا اقول: وباﷲ التوفیق اس کی دلیل جلیل قول مولٰی عزوجل وتبارک وتعالٰی ہے:
|
وَرَبٰٓئِبُکُمُ الّٰتِیۡ فِیۡ حُجُوۡرِکُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیۡ دَخَلْتُمۡ بِہِنَّ ۫ فَاِنۡ لَّمْ تَکُوۡنُوۡا دَخَلْتُمۡ بِہِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ ۫ [1]۔ |
تم پر حرام کی گئیں تمھاری گود کی پالیاں ان عورتوں کی بیٹیاں جن سے تم نے صحبت کی پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو توتم پر کچھ گناہ نہیں۔ |
اس آیہ کریمہ میں زن مدخولہ کی بیٹی حرام فرمائی اور جس طرح وصف الّٰتِیۡ فِیۡ حُجُوۡرِکُمۡ یعنی اس کی گود میں پلنا بالاجماع شر ط حرمت نہیں۔مثلازید کسی پچیس سال والی عورت سے نکاح کرے او راس کے پہلے شوہرسے اس کی ایک بیٹی چار دہ سالہ ہو جسے گود میں پالنا درکنار زیدنے آج سے پہلے کبھی دیکھا بھی نہ ہو تو کیا زیدکو حلال ہوسکتاہے کہ اس کی لڑکی سے بھی نکاح کرلے اور مادر دختر دونوں کو تصرف میں لائے لاالہ الا اﷲ یہ ہر گز شریعت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نہیں۔اسی طرح وصف نِّسَآئِکُمُ یعنی ان مدخولات کا زوجہ ومنکوحہ ہونا بھی بالاتفاق شرط نہیں،کیا لیلٰی وسلمی ماں بیٹی دونوں جس کی کنیز شرعی ہوں اسے حلال ہے کہ دونوں سے جماع کیا کرے،مادر و دختر دونوں ایک پلنگ پر،عیاذاًباللہ،یہ شریعت محمدی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے کس درجہ بعید ہے۔حالانکہ ہر گز کنیزیں نِّسَآئِکُمُ میں داخل نہیں نہ ان کی بیٹیوں پر رَبٰٓئِبُکُمُ صادق،غالباً ان حراموں کو حلال بتاتے ہوئے غیر مقلد صاحب بھی شرم کریں،توثابت ہواکہ نکاح جس طرح بحکم تتمہ آیت فَاِنۡ لَّمْ تَکُوۡنُوۡا دَخَلْتُمۡ بِہِنَّ تحریم دختر کے لیے کافی نہیں،یونہی شرط وضروری بھی نہیں یعنی نہ وہ علت ہے،نہ جزء علت اب آیہ کریمہ میں نہ رہا مگر الّٰتِیۡ دَخَلْتُمۡ بِہِنَّ ۫ یعنی ان عورتوں کی بیٹیاں جن کے ساتھ تم نے صحبت کی،معلوم ہوا صرف اس قدر علت تحریم ہے اور یہ قطعاً مزنیہ میں بھی ثابت کہ وہ ایک عورت ہے جس کے ساتھ اس نے صحبت کی،لاجرم بحکم آیت ا س کی بیٹی اس پر حرام ہوگئی،نظیر اس کی اسی بیان محرمات میں ہے قولہ عز شانہ ہے۔ وَحَلٰٓئِلُ اَبْنَآئِکُمُ الَّذِیۡنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ ۙ [2]حرام کی گئیں تم پر تمھارے ان بیٹوں کی جوروئیں جو تمھاری پشت سے ہیں کہ جس طرح الَّذِیۡنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ یعنی بیٹے کا اس کی پشت سے ہونا اخراج متبنی کے لیے ہے نہ کہ اخراج وغیرہ و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع