30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بنات الاخوۃ من الرضاع کل انثی ولدھا ابن الفحل الذی منہ اللبن [1] اھ ملخصًا |
رضاعی بھتیجیاں یہ تمام وہ لڑکیاں ہیں جو دودھ پلانے والی عورت کے اس خاوند کے بیٹے کی اولاد ہوں جس سے اس عورت کو دودھ اتر ا ہے۔اھ ملخصا(ت) |
ہاں اگر حفصہ کے یہ دودھ زید سے نہ ہوتا توبکر کی یہ رضاعت زاہدہ کو اس پر حرام نہ کرتی۔
|
لان الحسن وبکرا ح لم یشتر کافی ام ولااب فلم یکن الحسن الاعمہ وبنت العم یحل مالم یوجد مایمنع الحل۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
کیونکہ حسن اور بکر اس صورت میں ماں میں اور نہ ہی باپ میں شریك ہوئے،تو حسن بکر کے لیے صرف چچا ہوا۔اور چچا کی لڑکی اگرکوئی اور مانع نہ ہو تو حلال ہوتی ہے۔(ت)والله سبحانہ وتعالٰی اعلم |
مسئلہ ١٩٣: ا زشہر کہنہ مسئولہ امیر حیدر صاحب ٩ رجب ١٣١٥ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ متعہ کی حرمت کس آیت وحدیث سے اہل سنت کے یہاں ثابت ہے؟ بینوا تو جروا
الجواب:
الله عزوجل فرماتا ہے:
|
وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِفُرُوۡجِہِمْ حٰفِظُوۡنَ ۙ﴿۵﴾ اِلَّا عَلٰۤی اَزْوٰجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیۡمٰنُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ۚ﴿۶﴾ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْعٰدُوۡنَ ۚ﴿۷﴾ [2] |
وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کو بچائے ہوئے ہیں مگر اپنی بیبیوں یا اپنی شرعی کنیزوں پر کہ ان پر کچھ ملامت نہیں تو جو اس کے سواکوئی اور راہ طلب کرے تو وہی لوگ ہیں حد سے بڑھنے والے۔ |
ظاہر ہے کہ زن ممتوعہ نہ اس کی بی بی ہے نہ کنیز شرعی،تویہ وہی تیسری راہ ہے جو خدا کی باندھی ہوئی حد سے جدا اور حرام وگناہ ہے۔رب تبارك وتعالٰی مردوں سے فرماتا ہے:
|
مُحْصَنٰتٍ غَیۡرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ ۚ [3]۔ |
نکاح کرو بی بی بناکر،قیدمیں رکھنے کو نہ پانی گرانے نہ آشنا بنانے کو۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع