30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صحیح ہے مگر سخت کراہت شدیدہ سے مکروہ ہے۔
|
لما فی الحدیث عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتناکحوھم [1]۔ |
کیونکہ حدیث شریف میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ ان سے نکاح نہ کرو۔(ت) |
صحیح حدیث میں ہے کہ ایك شخص نے اپنے ناقہ کو لعنت کی حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اسے چھڑوادیا کہ ملعونہ ناقہ پر ہمارے ساتھ نہ رہ۔پھر کسی نے اس ناقہ کو نہ چھوا[2] حالانکہ ناقہ فی نفسہا مستحق لعنت نہیں۔حضرات شیخین رضی الله تعالٰی عنہماپر لعنت کرنے والے بلاشبہہ لعنت الہٰی کے مورد ہیں:
|
اولئك یلعنھم اﷲ ویلعنھم اللاعنون [3]۔ |
یہ وہ لوگ ہیں کہ ان پر الله تعالٰی لعنت فرماتا ہے اور سب لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔(ت) |
احادیث صحیحہ کثیرہ ا س معنی پر ناطق ہیں توایك ملعونہ سے صحبت رکھنا کیونکر شرع مطہر کو گوارا ہوگا والله الھادی۔
سوم تفضیلی کہ تمام صحابہ کرام رضی الله تعالٰی عنہم کو خیرسے یادکرتاہو خلفائے اربعہ رضوان الله تعالٰی علیہم کی امامت بر حق جانتا ہو صرف امیرالمومنین مولٰی علی کو شیخین رضی الله تعالٰی عنہم سے افضل مانتا ہو،انھیں کفر سے کچھ علاقہ نہیں بد مذہب ضرورہیں ایسی عورت سے بالاتفاق نکاح جائز ہے ہاں کراہت سے خالی نہیں کہ مبتدعہ ہے اگرچہ ہلکے درجہ کی بدعت ہے خصوصا اگرا س کی محبت میں اپنے مذہب پر اثر پڑنے کا احتمال ہو تو کراہت شدید ہوجائے گی اور ظن غالب تواشد بالغ بدرجہ تحریم،والله سبحانہ و تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٩١: از احمد آباد گجرات محلہ کالپور متصل پور گلیان مرسلہ عبدالکریم صاحب ولد عبدالغنی صاحب ١٣ جمادی الآخرہ ١٣١٤ھ
ماقولکم رحمکم الله تعالٰی اس مسئلہ میں کہ ایك مرد نے ایك عورت سے نکاح کیا ابھی وہ عورت زندہ سلامت اس مرد کے نکاح میں موجود ہے اب وہی مرد اس عورت کے بھائی کی نواسی سے نکاح کرنا چاہتا ہے آیا یہ جمع کرنا درمیان عورت اوراس کی بھتیجی کی بیٹی کے حلال ہے یا حرام؟ بینوا بیانا شافیا توجروا اجراوافیا۔
الجواب:
حرام ہے،اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ جو دوعورتیں آپس میں محرم ہوں یعنی ان میں سے جس کو مرد فرض کیا جائے دوسری پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو ایسی دو عورتوں کو جمع کرناجائز نہیں۔یہاں ایساہی ہے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع