30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
ان سب سے نکاح جائز ہے جبکہ محارم نہ ہوں۔قال الله تعالٰی: وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ[1](محرمات مذکورہ کے ماسوا تمھارے لیے حلال ہیں۔ت)والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٨٩: از اٹاوہ مکان قاضی مظفرعلی صاحب ڈگری نویس منصفی مرسلہ شیخ دیدار بخش صاحب ٢٣ صفر ١٣١٤ھ
ہندہ کا نکاح نو برس کی عمر میں ہواتھا،اس کا شوہر جو بالغ تھا تین ماہ بعد نکاح کے نینی تال کو چلا گیا وہاں اس نے اپنا نکاح کیااور زوجہ ثانیہ سے اولاد ہوئی۔ہندہ شوہر سے نان ونفقہ کی طالب ہوئی،ا س نے کچھ التفات نہ کی،تب خواہان طلاق ہوئی،طلاق بھی نہ دی،بلکہ ایك عرصہ کے بعد زوجہ ثانیہ اور اولاد کو بھی چھوڑ کر کہیں چلا گیا،پانچ چارسال سے مفقود الخبر ہے،ہندہ اب اپنا دوسرا نکاح کیاچاہتی ہے،اس معاملہ میں بنظر حالات جو مسئلہ شرعی ہو فرمائیے،اب عمر ہندہ پچیس سال کی ہے۔بینوا تو جروا
الجواب:
ہر گزیوں نکاح نہیں کرسکتی،قال الله تعالٰی: والمحصنٰت من النساء [2](شادی شدہ عورتیں حرام ہیں۔ت)اس پر لازم ہے کہ صبر وانتظارکرے یہاں تك کہ اس کے شوہر کی ولادت کو ستربرس گزر جائیں،اس کے بعد اس کی موت کا حکم کیا جائے فی جواہر الاخلاطی یحکم بموتہ بعد سبعین سنۃ وعلیہ الفتوی [3](جواہر الاخلاطی میں ہے: گم شدہ کی عمر کے ستر سال پورے ہونے کے بعد اس کی موت کا حکم کیا جائے گا۔اسی پر فتوٰی ہے۔ت)ادعائے ضرورت وعذرجوانی حرام کو حلال نہیں کرسکتا۔بہت کمسن لڑکیا ں کہ بیوہ ہوجاتی ہیں باتباع رسم ہنود عمر بھر نام نکاح نہیں لیتیں۔اس وقت ضرورت وجوانی کدھر جاتی ہے۔ہزاروں وہ ہیں جن کے شوہر زندہ موجود ہیں مگر ان کی طرف سے قطعًا برگشتہ و روگرداں،وہ اپنی عمر کیونکر کاٹتی ہیں! یہ جو بعض کا زعم ہے کہ چار سال گزرنے پر عورت کو نکاح ثانی کا اختیار امام مالك کے مذہب میں حاصل ہوجاتا ہے محض جہل۔اور امام مالك رضی الله تعالٰی عنہ کے مذہب سے نا واقفی ہے ان کا مذہب یہ ہے کہ عورت حاکم شرعی کے حضور مستغیثہ ہو وہ بعد ثبوت مفقودی روز مرافعہ سے چار سال کی مہلت دے۔اس کے گزرنے پر قاضی تفریق کرے۔اب عورت عدت پوری کرکے نکاح کرسکتی ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع