دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 11 | فتاوی رضویہ جلد ۱۱

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۱

وتعتبر مدتہ وھی ستۃ اشھر من الوطی والالایثبت وھذا قول محمد وبہ یفتی وقالا ابتداء المدۃ من وقت العقد کالصحیح و رجحہ فی النھر بانہ احوط [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

ثابت ہوگا جبکہ مدت کا اعتبار ہوگا جو کہ وطی سے چھ ماہ تك ہے ورنہ نہیں،یہ امام محمد رحمہ الله تعالٰی کا قول ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔اور امام اعظم اور امام ابویوسف رحمہماالله تعالٰی کے قول پر مدت کا اعتبار وقت نکاح سے چھ ماہ ہے جیسا کہ صحیح نکاح میں ہوتا ہے،نہر میں اس کو ترجیح دی ہے کیونکہ اس میں زیادہ احتیاط ہے۔(ت)والله تعالٰی اعلم

مسئلہ ١٨٤: چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ(کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں۔ت)کہ ہندہ زوجہ بکر کسی تقریب خانگی میں بہت سی مستورات کے ہمراہ ایك مقام پر جہاں دروازہ پر پردہ لگاتھا موجود تھی،اورا س جلسہ میں زوجہ زید بھی تھی،زوجہ بکر دوپٹہ یا چادر زوجہ زیدکا اتفاق سے اوڑھے تھی،وقت شب تھا،روشنی کافی جیسا کہ تقریبات میں قاعدہ ہے موجود تھی،دریں اثناء زید وہاں آیا اور ہندہ زوجہ بکر مذکورہ بالا اپنا منہ جو کھلا تھا باہر پردہ کے لائی کہ زید مذکور نے اس کا بوسہ رخسا ر پر لیا،ہندہ نے و دیگرعورات نے اس کا مواخذہ زید سے کیا،اس وقت زید نے رو برو جملہ اور پانچ سات ذکورعادل کے یہ عذر کیا کہ میں نے اپنی زوجہ کے دھوکامیں بوسہ لیاتھا بوجہ اس کے کہ زوجہ بکر یعنی ہندہ مذکور میری زوجہ کا چادر اوڑھے تھی اس دھوکا اور شبہہ سے بوسہ لیا تھا ہر گز دانستہ یہ فعل نہیں کیا،پس اب ہندہ مذکورہ کی لڑکی کا نکاح زید کے ساتھ ازروئے شرع شریف کے درست ہے یا نادرست؟ اس امرپر حکم فرماکر دستخط خاص سے جواب تحریر فرمایا جائے عندالله ماجور ہوں گے۔

الجواب:

صورت مستفسرہ میں اگر ثابت ہے کہ زید نے زوجہ بکر کا بوسہ بنظر شہوت لیا تو اس پر عورت کی سب اولاد ہمیشہ کے لیے زیدپر حرام ہوگئی،کسی طرح اس کے ساتھ نکاح نہیں ہوسکتا،اور اگر نادانستہ نکاح کرلیا ہے فریقین پر واجب ہے کہ اسے فسخ کردیں ورنہ سخت گناہ گارہوں گے۔اور اگر شوہر فسخ پر راضی نہ ہو توعورت بذات خود فسخ کرسکتی ہے کما نص علیہ فی ردالمحتار(جیساکہ ردالمحتاروغیرہ میں اس پر نص ہے۔ت)بلکہ امام محقق علی الاطلاق کمال الملۃ والدین محمد بن الہمام قدس سرہ العزیز نے فتح القدیر شرح ہدایہ میں تصریح فرمائی ہے کہ جس طرح لبوں کا بوسہ لینا خواہی نخواہی بنظر شہوت قرار پائے گا یہاں تك کہ اگروہ شخص ادعا کرے کہ یہ فعل مجھ سے بنظر شہوت نہ ہوا توہرگز قبول نہ کریں گے اور حکم حرمت ابدی دیں گے یہی حال بوسہ رخسار کا ہونا چاہئے کہ یہ بھی بشہوت ہی ٹھہرے گا اور


 

 



[1] درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٠١

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن