30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور زن منکوحہ بنکاح فاسد مستحق ارث نہیں۔
|
فی الدرالمختار من باب نکاح الکافر واجمعوا انھم لایتوارثون لان الارث انما ثبت بالنص علٰی خلاف القیاس فی النکاح الصحیح مطلقًا فیقتصر علیہ ابن ملك [1]۔وفیہ من کتاب الفرائض ویستحق الارث باحد ثلثۃ برحم ونکاح صحیح فلاتوارث بفاسد ولا باطل اجماعا ٢[2]اھ۔ |
درمختار کے"باب نکاح کافر"میں ہے کہ ائمہ کرام کا اجماع ہے کہ یہ آپس میں وارث نہ بنیں گے کیونکہ وراثت کا ثبوت نص میں قیاس کے خلاف ہے اور یہ صرف نکاح میں ہے اور اس میں منحصر رہے گا۔ابن ملک۔اور اسی درمختار کے کتاب الفرائض میں ہے کہ وارث کا استحقاق تین وجہ سے ہوتاہے۔ رشتہ رحم اور صحیح نکاح کی بنا پر نکاح فاسد یاباطل سے باجماع استحقاق وارثت نہیں اھ(ت) |
ہاں اگر وطی واقع ہوگئی تو مہر مسمی ومہر مثل سے جو کم ہوگا لازم آئے گا مثلا اگر عقد پانسو روپے مہر پر بندھاہے اورمہر مثل سور وپے ہے تو مہر مثل،اور در صورت عکس مہر مسمی یعنی جوعقد میں بندھا ہے واجب الاداہوگا،اور جو عقد میں کچھ نہ بندھا یا بندھا معلوم نہیں ہوسکتا تومہرمثل جس قدر ہو قرار پائے گا۔
|
فی الخلاصۃ الواجب فی النکاح الفاسد الاقل من المسمی ومن مھر المثل ان کان ھناك تسمیۃ [3]۔فی الدرالمختار ویجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطی لابغیرہ ولم یزدمھر المثل علی المسمی ولو کان دون المسمی لزم مھر المثل ولو لم یسم اوجھل لزم بالغا مابلغ[4] انتھی مع التلخیص۔ |
خلاصہ میں ہے اگرمہر مقررہ ہوتو فاسد نکاح سے مہر مثل اور مقررہ سے جوکم ہو وہ واجب ہوگا۔درمختار میں ہے کہ فاسد نکاح میں مہر مثل وطی سے واجب ہوتا ہے وطی کے بغیر مہر مثل واجب نہیں ہوتا اور مہر مثل مقررہ مہر سے زیادہ بھی نہیں کیا جائیگا اگرچہ مقررہ مہرسے مہر مثل کم ہو اور اگر مقرر نہ ہو یا مقررمعلوم نہ ہو تواس صورت میں مہر مثل لازم ہوگا جتنا بھی ہو اھ ملخصا(ت) |
اور اولاد کہ نکاح فاسد میں وقت وطی سے چھ مہینے بعد پیدا ہوئی بالاجماع ثابت النسب ومستحق الارث ہے،
|
فی الدرالمختار ویثبت النسب احتیاطا بلادعوۃ |
درمختامیں ہے کہ نکاح فاسد میں بغیر دعوٰی احتیاطًا نسب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع