30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فھو عنین فی حق من لایصل الیھا کذا فی النھایۃ ١[1]۔ |
تو ان عورتوں کے حق میں اس کو نا مرد تصورکیا جائے گا جن سے جماع کی طاقت نہ رکھتا ہو،نہایہ میں یوں ہے۔(ت) |
پس بلاشبہہ نکاح ثانی زینب کا محض ناجائز وباطل ہے۔والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٨٢: از اٹاوہ مرسلہ مولوی وصی علی صاحب نائب ناظر کلکٹری اٹاوہ ٢٥ ذی قعدہ ١٣١٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لیلٰی وسلمی دو رضاعی بہنیں ہیں،لیلٰی سے زید نے نکاح کیا اب سلمٰی سے اس کے پسر عمرو بن جمیلہ کا نکاح ہوسکتا ہے یا وہ عمرو کی سوتیلی خالہ یعنی سوتیلی ماں کی رضاعی بہن سمجھ کر حرام مانی جائے گی۔بینوا تو جروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں عمرو وسلمٰی کا نکاح جائز ہے کہ باپ کی سالی جبکہ اپنی حقیقی یا رضاعی ماں کی سگی یا سوتیلی یا مادری یا رضاعی بہن نہ ہو حلال ہے خواہ نسبی ہو خواہ رضاعی۔قال الله تعالٰیوَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ[2](محرمات مذکورہ کے سوا تم کے لیے حلال ہیں۔ت)سوتیلی خالہ کہ حرام ہے اس کے معنی حقیقی یارضاعی ماں کی سوتیلی بہن نہ کہ سوتیلی ماں کی حقیقی یا رضاعی بہن،والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٨٣: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے نکاح میں ایك عورت حرہ تھی دوسرا نکاح اس نے ایك کنیز سے کیا،یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں؟ اور کنیز کا مہر اس کے ذمہ کس قدر لازم ہوگا؟ اس کنیز سے اس کی اولاد بھی ہوئی،اب زید نے انتقال کیا تو کنیز اور اس کی اولاد ترکہ پائیں گے یا نہیں ؟ بینوا تو جروا
الجواب:
زن حرہ پر لونڈی سے نکاح کرنا فاسد ہے،
|
فی الدرالمختار وصح نکاح حرۃ علی امۃ و لایصح عکسہ انتھی [3] ملخصًا۔ |
درمختار میں ہے لونڈی پر حرہ عورت سے نکاح صحیح ہے اورا س کا عکس یعنی حرہ پر لونڈی سے نکاح صحیح نہیں ہے۔انتہی ملخصا(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع