30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مصاہرت شرعا ثابت ہوگی یا نہیں؟ اور ہندہ زید پر حرام ہوگئی یا کیا؟ ایك عالم صاحب نے فرمایا کہ اقرار زنا پر شہادت معتبر نہیں ہے اس شہادت سے زنا ثابت نہیں ہوتا تو حرمتِ مصا ہرت کیسے ثابت ہوگی،تحریر میں جلدی فرمائی جائے کہ مسئلہ میں بہت سے علماء مختلف ہیں۔
سوال دوم : اگر اقرار یہ کیا ہو کہ میں نے اس کی ماں سے قبل اس کے نکاح کے زنا کیاتھا،تو کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
بلاشبہہ صورت مستفسرہ میں حکم شرع میں حرمت مصاہرت ہوگئی،ہندہ زید پر حرام ابدی سمجھی جائیگی فان البینۃ کاسمھا مبینۃ(بینہ اپنے نام کی طرح،واضح کرنے والا ہے۔ت)جب شہادت شرعیہ سے زید کااقرار بالزنا ثابت ہوا تو اس کے ردکی طرف کیا سبیل کہ ثابت بشہادت بمنزلہ ثابت بمشاہدہ ہے۔اس گواہی سے ثبوت زنا نہ ہونا مطلقًا ابطال شہادت یا تکذیب شہودیا رد مشہود کی بناپر نہیں کہ اس سے نفس اقرار بھی ثابت نہ مانئے۔امام محقق علی الاطلاق فتح القدیرمیں پھر علامہ زین مصری بحرالرائق میں فرماتے ہیں:
|
ان شھد رجلان اورجل وامرأتان علی اقرار المقذوف بالزنا یدرؤعن القاذف الحد و عن الثلثۃ ای الرجل والمرأتین لان الثلث بالبینۃ کالثابت بالمعاینۃ فکانا سمعنا اقرارہ بالزنا [1]۔ |
زنا سے متہم شخص کے اقرار زناپر مردوں یا ایك مرد دو عورتوں نے شہادت دی تو اس سے فقہاء نے تہمت لگانے والے اور گواہ ایك مرد دو عورتوں سے حدقذف کو ساقط قراردیا ہے کیونکہ گواہی سے ثابت شدہ چیز ایسے ہے جیسے دیکھی ہوئی ہو،تو گواہوں کے بیان سے ثابت شدہ زنا کا اقرار ایسے ہے جیسے ہم نے خود سنا ہے۔(ت) |
ثابت ہوا کہ شہادت اقرار اگرچہ مثبت زنا ہونے کی اصلًاصلاحیت نہ رکھے کہ اثبات زنا میں شہادت زنان وشہادت دو مرد زنہا ر مسموع نہیں مگر مثبت اقرار بیشك ہے کہ اس کے لیے نصاب کامل ہے۔نیز بحر میں ہے:
|
لو شھد رجلان انہ زنی واٰخران انہ اقربالزنا فانہ لایحد قال فی الظھیریۃ ولایحد الشھود |
دومردوں نے گواہی دی کہ اس نے زنا کیا ہے اور دوسرے نے گواہی دی کہ اس نے زنا کا اقرار کیا ہے۔توا یسی صورت میں اس کو زنا کی حد نہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع