30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تنویر میں ہے:
|
بعدہ یحکم بموتہ فتعتد عرسہ للموت [1](ملخصا) |
مدت گزرنے کے بعد خاوند کی موت کا حکم دیاجائے گا لہذا یہ عورت موت والی عدت پوری کرے گی ملخصا(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:ای عدۃ الوفاۃ [2](یعنی وفات والی عدت مراد ہے۔ت) بہت سن رسیدہ مرد نو عمر عورتوں سے نکاح کرتے ہیں وہاں ایسی صورتیں واقع ہوتی ہیں کہ مرد ستر برس کا اور عورت جوان ہو،مثلا پچاس پچپن بر س کی عمر میں پندرہ برس کی عورت سے نکاح کیا او رمفقود ہوگیا تو جب اس کی عمر سے ستر برس گزریں گے عورت تیس پنتیس برس کی ہوگی اس عمر کی عورت بیشك نکاح کے قابل ہے اور نہ ہوتو حکم شرع کے لیے ہے نہ کہ اپنی خواہش نفس کے لیے۔قرآن عظیم صاف فرمارہا ہے: وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ[3] (شادی شدہ عورتوں میں سے۔ت)پھراس کے خلاف کی طرف راہ کیا ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٧٤: ا زکلکتہ امام باغ لین نمبر ٤١ مسجد مرسلہ حافظ عزیز الرحمن صاحب ٢٩ جمادی الآخرہ ١٣١٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد چچا مرنے کے چچی سے نکاح درست ہے یا نہیں؟ اگر درست ہے تو کیا دلیل ہے؟ بینوا توجروا
الجواب
درست ہے۔دلیل اس کی قول الله عزوجل ہے: وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ
[4] (محرمات کے علاوہ عورتیں تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں۔ت)کہ حرام عورتوں کو شمار فرماکر ار شاد ہوا ان کے سوا عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں،حرام عورتوں میں چچی کو نہ شمار فرمایا نہ شرح میں کہیں اس کی تحریم آئی تو ضرور وہ حلال عورتوں میں سے ہے۔والله تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ١٧٥: از آمود ضلع بہڑوئچ گجرات کلاں مرسلہ سید غلام سرور ٢ رجب ١٣١٢ھ
کیافرماتے ہیں علمائے شریعت محمدی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کانام مسمی عبدالله ہے اس کی ہمشیرہ کا نام نورن تھا،مسماۃ نورن کا نکاح مسمی ہدایت الله کے ساتھ ہوا،مسمی ہدایت الله کے نطفہ و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع