30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(جیسا کہ درمختار،عالمگیریہ اور عام کتب میں اس پر نص ہے۔ت)اس سے جو اولاد ہوگی قطعًا ولدالزنا ہوگی اور ترکہ پدری سے مطلقا محروم کہ ولد الزنا کے لیے شرعا کوئی باپ ہی نہیں۔
|
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم للعاھر الحجر [1]۔ |
رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: زانی کے لیے محرومی ہے۔(ت) |
اور اگردختر مذکورہ ایسے عقائد نہیں رکھتی بلکہ مسلمان ہے تو مسلمان کا نکاح اس سے ہوسکتا ہے اولاد صحیح النسب ہوگی اور ترکہ پدری کی مستحق۔والله تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ١٧٠: ١٣شعبان المعظم ١٣١١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیعانِ مروجہ کی اولاد حرامی ہے یا حلالی؟ اگر حرامی ہے تو عندالله حرامی عورت کا نکاح سنی مرد سے ہوجائےگا یا نہیں؟ او اس کی اولاد بطنی میں کچھ نقصان واقع ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
ان میں مرد یا عورت جس کا عقیدہ کفریہ ہو اولاد حرامی ہے،
|
اذلانکاح لمرتد ولالمر تدۃ اصلا حتی مع مثلہ فی الارتداد[2] کما نص علیہ فی الائمۃ الامجاد۔ |
مرتد مرد اور عورت کابالکل کسی سے نکاح نہیں ہوسکتا حتی کہ ان جیسے مرتدسے بھی،جیساکہ ا س پر ائمہ بزرگوار نے تصریح کی ہے۔(ت) |
ہاں اگرزن وشوہر دونوں عقائد کفریہ سے پاك ہیں تو اولاد حلالی ہے۔اور حرامی عورت رافضیہ کا نکاح سنی سے ہوسکتا ہے جبکہ وہ خود عقیدہ کفر یہ نہ رکھتی ہو،اس صورت میں اس کی اولاد بطنی میں کوئی نقصان نہیں،اور اگر وہ خود بھی اپنے ماں باپ کی مثل کوئی عقیدہ کفریہ رکھتی ہے تو خودبھی نطفہ حرام ہے اور اس کی اولاد بھی حرامی خواہ رافضی سے ہو یا سنی سے۔اور اس سے کسی کانکاح اصلا ممکن نہیں۔والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٧١: ایك شخص کا حمل ایك عورت کورہا اور بعد معلوم ہونے حمل کے وہ عورت چاہتی ہے کہ راز فاش نہ ہو مابین حمل عقد درست ہوگایا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
درست ہے اگرچہ غیر زانی سے ہو مگر وطی ودواعی اسے روا نہیں جب تك وضع نہ ہو،او رجو زانی سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع