30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
تنہا ایك عورت کا بیان اصلاقابل سماعت نہیں،قال الله تعالٰی: وَّ اَشْہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدْلٍ مِّنۡکُمْ[1](اپنے دو عادل گواہ بناؤ۔ت) نکاح بکر یقینا قائم ہے
|
حتی علی فرض صدقھا ایضا لان المذھب عندنا ان حرمۃ المصاھرۃ لاترفع النکاح،وانما تفسدہ فلا بدمن متارکۃ من زوج اوتفریق من قاض [2]۔کما فی رد المحتار عن النھر عن الزیلعی(مفھومًا) واﷲ تعالٰی اعلم |
حتی کہ عورت کو سچا بھی تسلیم کیا جائے،اس لیے کہ ہمارا مذہب یہ ہے کہ حرمت مصاہرہ نکاح کو ختم نہیں کرتی بلکہ اس کو فاسدہ کرتی ہے۔لہذا خاوند کا متار کہ یا قاضی کی تفریق ضروری ہے۔جیساکہ ردالمحتار میں زیلعی کے حوالے سے نہر سے منقول ہے۔(ت) |
مسئلہ ١٦٦: ا ز رائپور علاقہ جے پور ڈاکخانہ نڈاون مرسلہ منشی فرزند حسن صاحب ٢٨ ذی قعدہ ١٣٠٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت کو جس شخص کا حمل ہو قبل وضع حمل اسی سے یا غیر سے نکاح کرنا اسے جائز ہے یا نہیںـ؟ بینوا بالکتاب توجروا یوم الحساب۔
الجواب:
حمل اگر حلال کا ہے(یعنی وہ جس میں شرعا نسب ثابت ہو)تو قبل ازوضع اس کا نکاح کسی غیر سے نہیں ہوسکتا۔قال الله تعالٰی:
|
وَ اُولٰتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنۡ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ ؕ[3]۔ |
حاملہ عورتوں کی عدت بچے کی پیدائش تك ہے۔(ت) |
ہاں شوہر سے جس کا حمل ہے نکاح جائز،اس کی صورت یہ کہ بعد حمل رہنے کے شوہر نے طلاق دے دی تو اگرچہ ہنوز وضع حمل نہ ہو اس سے نکاح ہوسکتا ہے بشرطیکہ طلاق مغلظہ نہ ہو جس میں حلالہ کی ضرورت پڑتی ہے۔
|
فی الدرالمختار ینکح مبا ینتہ بمادون الثلاث فی العدۃ وبعدھا بالاجماع لامطلقۃ بالثلث حتی یطأھا غیرہ بنکاح نافذ ٤[4] (ملتقطا) |
درمختار میں ہے کہ اپنی مطلقہ بائنہ سے عد ت پوری ہونے سے قبل یا بعد نکاح کرسکتا ہے بالاجماع،تین طلاق والی سے نکاح نہیں کرسکتا،جب تك کسی غیر شخص سے اس کا نکاح اور وطی نہ ہوجائے۔ (ملتقطا)(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع