30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
توبکر ہر گز اپنے ارادہ سے باز نہ آتا،زید کوبعد دریافت اس حالت کے اپنی دختر ہندہ کے عقد میں شك پڑگیا اور کہا کہ میں اب رخصت نہ کروں گا،تو اب جس حالت میں دونوں ولی اصلی یعنی والدین ہندہ زید مع زوجہ بکر سے بباعث اس حرکت کے ناراض ہیں تونکاح ہندہ کا بکر سے باقی رہ گیا یا ٹوٹ گیا؟ اور اگر ٹوٹ گیا تو عقد ثانی اس کا خواہ بکر سے یا اورجگہ ہوسکتا ہے یانہیں؟ کیونکردختر زیدیعنی ہندہ نابالغہ ہے اور ولی یعنی والدین اس کے بکر سے ناراض ہیں تو ایسی حالت میں مسئلہ شریعت کیا ہے۔اور اب معاملہ ہندہ وبکر کیا ہونا چاہئے؟ اور زوجہ زید جوان ہے جس سے یہ حرکت بکرنے کی،فقط،بینوا توجروا
الجواب:
اس میں شك نہیں کہ اپنی منکوحہ کی ماں کے جسم کوبنظر شہوت کسی جگہ ہاتھ لگانے سے گونکاح زائل نہیں ہوتا مگر عورت ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہوجاتی ہے۔اور اس شخص پر واجب ہوتا ہے کہ اسے چھوڑ دے لیکن اس قدر ضرور ہے کہ مس بحالت شہوت ہو یعنی ہاتھ لگانے کے وقت ہی معا نعوظ(یعنی عضو تناسل کا قائم ہونا)پیدا ہو یا پہلے سے نعوظ تھا تو ایسی حالت میں زائد ہوجائے ورنہ اگر جس وقت مس کیا نعوظ نہ تھا جب مس ختم ہوچکا اس کے بعد پیداہوا یا نعوظ پہلے سے تھا اور مس کرنے میں کچھ زیادہ نہ ہوا بدستور رہا توحرمت نہ ہوگی۔
|
فی الدرالمختار العبرۃ للشھوۃ عند المس والنظر، لابعدھما وحد ھا فیما تحرك اٰلتہ او زیادتہ بہ یفتی ١[1]۔وفی ردالمحتار قولہ او زیادتہ ای زیادۃ التحرك ان کان موجود ا قبلھما قولہ بہ یفتی قال فی الفتح وفرع علیہ مالوانتشر وطلب امرأتہ فاولج بین فخذی بنتھا خطاء لاتحرم امھا مالم یزد الانتشار ٢[2]۔
|
درمختار میں ہے کہ دیکھنے اور چھونے کے وقت شہوت کا اعتبار ہے اس کے بعد والی شہوت معتبر نہیں،اور اس وقت معتبر شہوت کی حد یہ ہے کہ چھونے اور دیکھنے پرآلہ تناسل حرکت کرے یا اس وقت حرکت میں زیادتی پیدا ہو۔اسی پر فتوٰی ہے۔ اور ردالمحتار میں ہے : اس کا قول"زیادتہ" اس سے مراد حرکت کی زیادتی ہے جبکہ پہلے حرکت موجود ہو،اس کا قول بہ یفتی،فتح میں کہا اورا س پر تفریع بیان کی کہ کسی کو انتشار ہوا،اپنی بیوی کی طلب کی تو بیوی کی بجائے(بیوی کے پہلے خاوند سے)بیٹی کی رانوں کو غلطی اور خطا سے استعمال کیا تو اس لڑکی کی ماں(بیوی)اس پر حرام |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع