30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زنانہ کیا بلکہ بلاشبہہ اور دھوکے سے جماع واقع ہو تو بھی زوجہ سے جماع حرام ہوگیا جب تك اس جماع شبہہ کے سبب سالی پر جو عدت لازم آئی ہے ختم ہوجائے۔
|
فی ردالمحتار فی مسئلۃ نکاح المرأۃ علی اختھا الثانی باطل ولہ وطی الاولی الاان یطأ الثانیۃ فتحرم الاولی الی انقضاء عدۃ الثانیۃ کما لووطئ اخت امرأتہ بشبھۃ حیث تحرم امرأۃ مالم تنقض عدۃ ذات الشبھۃ ح عن البحر [1]۔ |
ردالمحتا ر میں بہن کی موجودگی میں سالی سے نکاح کے مسئلہ میں فرمایا کہ دوسرا نکاح باطل ہے اور جب تك دوسری سے وطی نہ کی ہو پہلی سے جماع جائز ہے۔اگردوسری سے وطی کرلی ہوتو پہلی سے جماع ا س وقت تك حرام ہے جب تك دوسری کی عدت نہ گزرجائے۔ |
جس طرح شبہہ کی بناء پر بیوی کی بہن سے جماع ہوجائے توبیوی سے جماع حرام ہوتا ہے۔تاوقتیکہ شبہہ والی کی عدت پوری نہ ہوجائے،یہ بحر سے منقول ہے۔(ت)والله سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم
مسئلہ ١٦٤: از مارھرہ مطہرہ مرسلہ حضرت سید ظہور حیدر میاں صاحب قبلہ پنجم شوال ١٣٠٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ زید نے اپنی دختر ہندہ نابالغہ کا عقد بولایت اپنے ہمراہ بکرکردیا کہ جس کوعرصہ ایك سال کاگزرا زیدکی زوجہ کوسفر درپیش آیا واسطے حفاظت ونگرانی بکر کوہمراہ کردیا زوجہ زید نے بہمراہی اپنے داماد بکر کے مع ایك خادمہ سفر گاڑی پر کیا شب کوسرائے میں بکر نے باارادہ فاسدہ ونیت خراب اپنی خوشدامن کی چارپائی پرآکر زبردستی کہاکہ میں پاؤں دابوں،ہر چند منع کیالیکن زبردستی پاؤں دبانے شروع کردئے اور شکم پر ہاتھ پھیر کر قریب تھا کہ کمر بند کھول ڈالے اور اپنا ازار بند اول کھول لیاتھا،نہایت مشکل وزبردستی سے بکر کوچارپائی سے علیحدہ کیاگیا،دوبارہ پھر قریب تین بجے شب کے بکر نے آکر چارپائی پر بیٹھ کر ارادہ دست درازی کاکیا،زوجہ زید کی آنکھ کھلی گئی اور وہ چیخ کر غل مچانے لگی جس سے گاڑی بان اور خادمہ نے چونك کر چراغ سے دیکھا توبکرتھا عذر بدتر از گناہ کرنے لگا کہ میں کتا مارنے آیا تھا یہ بات زوجہ زید یقین اور خوب مضبوطی سے از روئے مباہلہ وقسم شرعی کہتی ہے کہ بکر نے اول مرتبہ میرے شکم پر ہاتھ پھیر کر میرے ازاربند کھولنے کی نیت سے دست درازی کی تھی اور اپنا ازار بند کھول رکھا تھا اور اس وقت بکر کے دست وپا میں رعشہ سخت تھا اگر میں ناراض ہوکر زبردستی بکر کوچار پائی سے علیحدہ نہ کرتی توبیشك میری عصمت بکر خراب کرڈالتا اورا سی ارادہ سے دوبارہ پھر بکر آکر میری چارپائی پر بیٹھا اگر گاڑی بان وخادمہ چراغ لے کر نہ آتے اور نہ دیکھتے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع