30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دو٢ بہنوں سے آگے پیچھے نکاح کیا پچھلی کا فاسد ہوگا، اس سے مفارقت واجب ہے اگر بعد دخول مفارقت کرے گا تو مہر مسمی ومہر مثل میں سے جو کم ہوگا وہ لازم ہوگا، عورت پر عدت واجب ، اولاد صحیح النسب، اور اسکی عدت گزرنے تك پہلی سے وطی حرام ہوگی۔ |
٣٣٠ |
اثبات زنا میں شہادت زنان و شہادت دو مرد ہرگزمسموع نہیں۔ |
٣٣٤ |
|
جس کا شوہر مفقود ہو اورمرد و عورت دونوں حنفی ہوں تو عورت دوسرے نکاح کےلئے کس مدت تك انتظار کرے۔ |
٣٣١ |
اگر دومرد کسی کے زنا پر اور دو اس کے اقرار زنا پر شہادت دیں تو حد نہیں لگائی جائے گی اور اگر تین٣ مردوں نے زنا اور ایك نے اقرار زنا پر شہادت دی تو تین شہود پر حدِقذف لگے گی۔ |
٣٣٤ |
|
چچی سے نکاح درست ہے۔ |
٣٣٢ |
دارالقضاء سے باہر کا اقرار مثبت زنا نہیں ہوتا۔ |
٣٣٥ |
|
سوتیلے نانا کی دختر سے نکاح کا حکم۔ |
٣٣٢ |
اقرار بالزنا بعد رجوع مثبت زنا نہیں رہتا۔ |
٣٣٥ |
|
زید نے اپنی سالی سے زناکا اقرار کیا پھر انکار، اس کے اقرار زنا پر قاضی کے سامنے شہادت گزری، اس شہادت اقرار زنا سے حرمت مصاہرت ثابت ہوگی یانہیں، اور ہندہ زوجہ زید اس پر حرام ہوگی یاکیا۔ |
٣٣٣ |
اثباتِ مصاہرت کے لئے ثبوت زنا کی اصلًا حاجت نہیں مجرد اقرار زنا کافی ہے۔ |
٣٣٦ |
|
اگراقراریہ کیا ہو کہ میں نے اس کی ماں سے قبل اس کے نکاح کے زنا کیا تھا تو کیا حکم ہے۔ |
٣٣٤ |
اگرچہ ہزل ومذاق میں ایك بار اقرارکیا کہ اس نے ساس سے زناکیا حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگئی پھر لاکھ انکار کرے مسموع نہ ہوگا۔ |
٣٣٦ |
|
شہادت اقرار اگرچہ مثبت زنا ہونے کی صلاحیت نہ رکھے مگر مثبت اقرار ہے۔ |
٣٣٤ |
اگر کسی سے کہا گیا کہ تو نے اپنی بیوی کی ماں سے کیا کیا، اس نے کہا میں نے اس سے جماع کیا، تو حر مت مصاہرت ثابت ہوگئی اگرچہ وُہ کہے کہ میں نے جھوٹ کہا۔ |
٣٣٦ |
|
اگر دو مرد یا دو٢ عورتیں اور ایك مقذوف بالزنا کے اقرارِ زنا پر شہادت دیں تو قاذف اور شہود پر حدِ قذف نہ لگائی جائے۔ |
٣٣٤ |
عورت سے بشرطِ بکارت نکاح کیا اور اسے ثیب پایا۔ عورت کہتی ہے تیرے باپ نے بکارت کا ازالہ کیاہے، اگر شوہر نے اس کی تصدیق کردی تو حرمت ثابت ہوجائےگی۔ |
٣٣٦ |
|
بینہ سے جوثابت ہو وُہ ایسا ہی ثابت ہوتا ہے جیسے معائنہ سے۔ |
٣٣٤ |
زنا بمادرزن پیش از نکاح زن اور اس کا عکس دونوں ثبوتِ حرمت ابدیہ میں یکساں ہیں اگرچہ ایك صورت میں حرمت سابقہ اور دوسری صورت میں طار یہ ہے۔ |
٣٣٧ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع