30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ [1] |
نہ کی ہو تو ان کے ساتھ نکاح میں تم پر کچھ گناہ نہیں۔ |
دیکھو قرآن مجید تصریح فرماتا ہے کہ اپنی منکوحہ کی دختر اپنی گودکی پالی بھی حلال ہے جب تك منکوحہ سے خلوت نہ کی ہو اختیار رکھتا ہے کہ منکوحہ کوچھوڑ کریا اس کے مرے پراس سے نکاح کرلے تو سالی کی بیٹی پرورش کرنے سے کیوں حرام ہونے لگی،یہ محض ہندوانہ خیالات ہیں۔والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٦١: ٢١ رجب ١٣٠٠ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر کا نکاح عمرو کے ساتھ کردیا،عمرونے طلاق نہیں دی،زید نے کچھ روپیہ بکر سے لے کر نکاح بکر کے ساتھ کردیا،اور بکر نے بھی طلاق نہیں دی۔زید نے اورشخص ثالث کے ساتھ کچھ روپیہ لے کر نکاح کردیا،اس صوررت میں یہ نکاح جائز ہوگئے یا نہیں؟بینوا توجروا۔
الجواب:
یہ نکاح نہ ہوئے محض زناہوئے،قال الله تعالٰی: وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ [2](شادی شدہ عورتیں حرام ہیں،ت) عورت اب جس کے پاس ہے اس پرقطعی فرض ہے کہ عورت کوا پنے پاس سے الگ کردے اور نکال دے۔اور عورت پر فرض قطعی ہے کہ اس سے جدا ہوجائے اپنے خاوند عمرو کے پاس آئے اور یہ روپیہ کہ زید نے بکر اور اس شخص ثالث سے لیا بالکل حرام قطعی اور رشوت بلکہ زنا کی خرچی تھا،زید پر فرض ہے کہ یہ روپیہ جس سے لیا ہے اسے واپس کرے زید اور شخص ثالث اور وہ عورت تینوں میں سے جو شخص ان احکام کی تعمیل نہ کرے مسلمان اسے اپنی صحبت سے نکال دیں اوراس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ترك کریں،قال الله تعالٰی:
|
وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾[3]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جب کبھی شیطان تجھے بھول میں ڈالے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے پاس مت بیٹھ۔(ت) |
مسئلہ ١٦٢: ٢٧ جمادی الآخرہ ١٣٠٩ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کاایك بیٹا ہے اور ہندہ کی ایك بیٹی۔زید کا بیٹا ہندہ سے نکاح کیا چاہتاہے اور زید ہندہ کی بیٹی سے،اس صورت میں یہ دونوں نکاح ہوسکتے ہیں یا نہیں؟ کتاب الله سے فرمائے۔بینوا توجروا
الجواب:
یہ دونوں نکاح حلال ہیں قال الله تعالٰی: وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ[4] (محرمات مذکورہ کے ماسوا تمھارے لیے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع