30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الْعَذَابَ[1]۔الآیۃ |
کرو،الآیۃ تک۔(ت) |
پس جبکہ زید نے ہنوز طلاق نہ دی نصیبن بدستور اس کے نکاح میں باقی ہے اور بکر خواہ کسی کو ہر گزا س سے نکاح حلال نہیں اگر کر بھی لیا،تاہم جیسے اب تك وہ دونوں مبتلائے زنا رہے یوں ہی اس نکاح بے معنی کے بعد بھی زانی وزانیہ رہیں گے،اور یہ جھوٹا نام نکاح کا کچھ مفیدنہ ہوگا، قال تعالٰی: وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ[2](شادی شدہ پاکیزہ عورتیں۔ت) پس چارہ کاریہی ہے کہ بکر نصیبن فورا جدا ہوجائے اور الله عزوجل کے غضب سے ڈرکر اپنے ان کبیرہ گناہوں سے توبہ کریں پھر نصیبن زید کے پاس نہ رہنا چاہے تو اسے اختیار ہے کہ زید کی طلاق کے بدلے مال دے کر خواہ بغیر مال دئے طلاق حاصل کرے،قال المولٰی سبحانہ وتعالٰی:
|
فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللہِۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَا فِیۡمَا افْتَدَتْ بِہٖؕ [3]۔ |
اگر تمھیں ڈر ہے کہ عدل کے طور پر وہ دونوں حدود الله کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو(خلع کے طورپر عورت کی طرف سے)فدیہ میں کوئی حرج نہیں ہے۔(ت) |
جب زید طلاق دے دے تو تین حیض کامل گزرنے کے بعد نصیبن کو حلال ہوگا کہ بکر خواہ غیر بکر جس سے چاہے نکاح کرلے،قال سبحنہ وتعالٰی:
|
وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍؕ [4]۔ |
طلاق شدہ عورتیں اپنے کو تین حیض تك پابند رکھیں، (ت) |
بکر ونصیبن اگر اس حکم الہٰی پر گردن رکھیں فبہا اور اگر نہ مانیں اوراسی حالت پر رہیں یا بے طلاق حاصل کئے آپس میں نکاح کرلیں،تو ایمان والے مرد اور ایمان والی بیبیاں انھیں یك لخت چھوڑدیں،نہ اپنے پاس بیٹھنے دیں نہ خود ان کے پاس بیٹھیں،قال عزوجل:
|
وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾ [5]۔واﷲ تعالٰی اعلم |
اور کبھی شیطان تجھے بھول میں ڈال دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھ۔(ت) |
مسئلہ ١٥٨: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عالم حیات زوجہ میں حقیقی سالی یا رشتہ کی سالی سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع