30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زید کی موجودگی میں بکر سے پھنسی ہوئی تھی،زید اپنے روزگار کی وجہ سے دوسرے شہرمیں رہتاہے،مگر اپنی زوجہ نصیبن کو دو برس تك کچھ خرچہ نہ بھیجا،چنانچہ نصیبن علانیہ بکر کے گھر میں آگئی،اس کے ایك لڑکابھی زید سے ہے۔طلاق نہیں دی ہے مگر ہاں زید کی مرضی ہے کہ مسماۃ کچھ دے تو طلاق دے دوں،بکر در صورت طلاق نہ دینے زید کے نصیبن سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
یہ جو عوام میں مشہور ہے کہ عورت بے اذن شوہر کے گھر سے نکل جائے تونکاح سے نکل جائے محض غلط ہے۔
|
قال تعالٰی: وَالّٰتِیۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَہُنَّ فَعِظُوۡہُنَّ [1]۔الایۃ۔ تخافون تعلمون ومن النشوز الخروج بلااذن۔ |
جن عورتوں کی نافرمانی کا احساس کرتے ہو ان کو نصیحت کرو،الآیۃ،یہاں تخافون بمعنی تعلمون اور نشوز سے مراد اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا ہے۔(ت) |
معاذ الله اگرایسا ہو تو نکاح کی گرہ زنان ناقصات العقل والدین کے ہاتھ میں ہوجائے،جو عورت چاہے بے ارادہ شوہر سہل طور پر نکاح سے آزادی حاصل کرلے حالانکہ الله عزوجل نے نکاح کی گرہ مردکےہاتھ میں رکھی ہے۔قال عزوجل:
|
بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِؕ[2] یعنی الزوج فی قول علی وسعید بن المسیب وسعید بن جبیر وغیرھم رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔ |
اسی(خاوند)کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔حضرت علی مرتضی رضی الله تعالٰی عنہ،سعیدبن مسیب اور سعید بن جبیر رضی الله تعالٰی عنہم نے خاوند مراد لیا ہے۔(ت) |
اسی طرح عیاذًا بالله عورت کے فسق وفجور سے بھی نکاح نہیں جاتا۔قال الله تعالٰی:
|
وَالّٰتِیۡ یَاۡتِیۡنَ الْفٰحِشَۃَ مِنۡ نِّسَآئِکُمْ[3]۔سماھن مع ذلك نسائھم،وقال جل وعلا وَالَّذِیۡنَ یَرْمُوۡنَ اَزْوٰجَہُمْ[4] الآیۃ الٰی قول تبارك وتعالٰی وَیَدْرَؤُا عَنْہَا |
تمھاری بیویوں میں سے جو فحش کاری کی مرتکب ہو،اس میں ا س کے باوجود ان کو بیویاں فرمایا گیا ہے۔ الله عزوجل نے فرمایا: وہ لوگ جواپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں الآیۃ،اس عورت سے حد کو ساقط |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع