30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لابد من اعتبار الکفاءۃ ولایسقط الابتراضی الولی والمرأۃ [1]۔ |
کفو کا اعتبار ضروری ہے صر ف ولی اور خود لڑکی کی رضاسے اس کا اعتبار ساقط ہوسکتاہے۔(ت) |
یہ ہمارے مذہب کے موافق ہے حتی کہ روایت حسن مفتی بہاکے بھی کہ اس میں بھی اگر بالغہ برضائے ولی قبل النکاح عالما بعدم الکفاءۃ غیر کفو سے نکاح کرے گی صحیح ونافذہوگا اور حق اعتراض بھی نہ رہے گا۔دوسری:
|
وعنہ فی الرجل یشرب الشراب اوھو حائك یفرق بینھما [2]۔ |
انہی سے مروی کہ شراب کا عادی یا جولاہا ہو تو دونوں میں تفریق کردی جائے گی۔(ت) |
یہ مطلق ہے وہ استثنائے تراضی یہاں نہیں یہاں بھی وہ استثناء ہو تو دونوں روایتیں ایك ہوجائیں لاجرم اس کے اطلاق کا یہ حاصل کہ لحاظ کفاءت حقاللشرع لازم تراضی زن و ولی سے بھی ساقط نہ ہوگا،اور گوسب کی رضا سے ایسا نکاح ہو قاضی جبرًا علیہم تفریق کردے گا،جیسے ہمارے یہاں بنت ممسوسہ بشہوت سے برضائے زن و اولیاء نکاح کرے یفرق بینھما(دونوں میں تفریق کردی جائے گی،ت)یہی حکم روافض نے دربارہ علویات دیا کہ دوسرے سے اگرچہ قرشی ہو علویہ کانکاح اگرچہ برضائے کل ہو ممتنع ہے۔ان دونوں قولوں کو امام سروجی فرماتے ہیں،باطلان(دونوں باطل ہیں،ت)اور وہ بیشك باطل ہیں،اگر بالغہ برضائے ولی حائك سے نکاح کرلے لایفرق بینھما(دونوں میں تفریق نہیں کی جائے گی،ت)اور علویہ بالغہ قرشی غیر علوی سے نکاح کرے اگرچہ بے رضائے ولی یاغیر قرشی سے برضائے ولی لایمتنع(منع نہیں کیا جائے گا۔ ت)امام سروجی ابوالعباس احمد قاضی مصر متوفی ٧١٠ صاحب غایہ شرح ہدایہ اجلہ علمائے حنفیہ سے ہیں،اس وقت تو فقیر نے قیاس سے گزارش کیا تھا کہ الخطبۃ للتزوج(منگنی نکاح کے لیے۔ت)ہوگا،اب کتاب کا ورق کہ جناب نے بھیجا دیکھ کر یقین کرتا ہوں کہ بیشك لام ہی ہے۔کاتب نے اس کتاب کو نسخ نہ کیا مسخ کیا ہے اسی لیے میں نے نہ خریدی،خطبہ کا غیر نکاح ہونا ایسا روشن ہے جیسے صبح کا غیر شمس ہونا حاشایہ احتیاط فی الفروج نہیں بلکہ احتیال فی الفروج ہے کہ منگنی ہوتے ہی منکوحہ بنالیں ولایقول بہ جاھل فضلاعن فاضل(کوئی جاہل بھی یہ بات نہ کہے گا چہ جائیکہ کوئی فاضل کہے۔ت)کس قدر کثرت وافرہ سے نصوص ملیں گے جو خطبہ وتزوج کی مباینت ثابت کریں گے ؎
ولیس یصح فی الاعیان شیئ اذا احتاج النھار الٰی دلیل
(دن کی موجودگی بھی اگر کسی دلیل کی محتاج ہو تو پھر دنیامیں کوئی چیز ثابت نہیں قرار پائے گی۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع