30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور عبارت تو اس سے پہلے صاف ہے ھما کے مرجع ہی میں شبہہ ہے۔اگر اس قاعدہ اکثریہ پر کہ اصل مرجع میں مذکور قریب ہے قریب کے دو قول لیے جائیں جو کہ ایك شارب وحائك کا دوسرا شیعہ والاہے۔تو اگرچہ شیعہ کے قول کا بطلان ظاہر ہے کہ ظاہر روایت میں بغیر تراضی اولیاء بھی نکاح درست ہے باوجود ثبوت اعتراض للولی،اور بروایت نوادر نا درست ہے،لفسادالزمان فلم یکن ممتنعا(اس کی وجہ زمانے کا فساد ہے لہذا اصلا ممنوع نہ ہوا۔ت)مگر شارب الشراب یا حائك سے اگر اعلٰی قوم کی عورت نے بغیر تراضی اولیاء کے نکاح کرلیا تو ظاہر روایت ہی کی رو سے تو تفریق کی جائے گی جیسا کہ کل متون وشروح وفتاوی میں مذکور ہے پس اس کے بطلان کی وجہ کیا ہے،سروجی حنفی مذہب کا ہے یاکہ غیر،اور کس طبقہ کا ہے،اور اس کی عبارت کا صاف مطلب کیا ہے،ملك خراساں کے اکثر حصص میں اکثر علمائے احناف اس کے قائل ہیں کہ سید زادی کا نکاح ہر شخص شریف و رذیل کے ساتھ درست ہے ولی راضی ہو یا خفا۔اور فقہ کی کل کتابوں سے اغماض کرکے صرف دو عبارتوں پر مصرہیں ایك آیت سورہ احزاب کے اول رکوع میں؛
|
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیۡنَ مِنْ اَنۡفُسِہِمْ وَ اَزْوَاجُہٗۤ اُمَّہٰتُہُمْ ؕ[1]الخ |
نبی پاك صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مومنین کی جانوں سے بھی ان کے لیے قریب تر ہیں اور آپ کی ازواج پاك مومنین کی مائیں ہیں الخ(ت) |
کہ تحریم ازواج مطہرات کی رسول الله وازواج کی بنات واخوات وخالات کی طرف متعدی نہیں،جیسا کہ مدارك و خازن واحمدی وروح البیان وغیر ہ میں ہے۔اور دوسری عبارت قال السروجی الخ جو کہ ابھی عینی سے نقل ہوئی ان کو جواب دیا گیا ہے کہ ظاہر روایت و نوادر سے یہ عبارت مخالف نہیں کیونکہ ظاہر روایت میں بھی درست ہے مع اعتراض ولی،اور نوادر میں جو نادرست ہے تو وہ بوجہ فساد زمانہ ہے فلاتعارض ولاتصادم(ظاہر اور نادرروایت میں تعارض وتصادم نہیں ہے۔ت)اس کے متعلق بھی حضورلامع النور کچھ تحریر فرمائیں
الجواب:
بملاحظہ شریفہ مولٰنا المبجل المکرم ذی ا لمجد والفضل والکرم مولٰنا مولوی قاضی غلام گیلانی صاحب دامت معالیہ السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ عبارت بنایہ صفحہ ١٠٢ بہت صاف ہے۔اوپر کی روایت سے موازنہ کرکے اس روایت کا مطلب واضح ہوتا ہے،امام احمد بن حنبل رضی الله تعالٰی عنہ سے دو روایتیں ذکرکیں،اول
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع