30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وان ترکھا متاؤ لابان کان یضلل او یفسق لایبطل عدالتہ ولایقبل شہادۃ من کان معروفا بالکذب [1] انتھی وفی الدرالمختار لاتقبل شہادتہ الابتاویل بدعۃ الامام او عدم مراعاتہ [2]اھ۔ |
ہوجائے گی اور اگراس نے اہمیت کے باوجود کسی تاویل وعذر کی بناپر مثلًا امام کو گمراہ یا فاسق قرار دیتے ہوئے جماعت ترك کردی تو اس کی عدالت باطل نہ ہوگی،اور جو شخص جھوٹ بولنے میں مشہور ہوجائے توا س کی شہادت مقبول نہیں اھ اور درمختارمیں ہے کہ ایسے شخص کی شہادت مقبول نہ ہوگی،الایہ کہ وہ تاویل اور عذر مثلاامام کے بدعتی ہونے یاشرعی امور کی رعایت نہ کرنے کی وجہ سے جماعت ترك کرے۔اھ(ت) |
جب ان لوگوں کی عدالت باطل ہو گئی تو بوقت نکاح وطلاق شہود بنانے سے نکاح وطلاق صحیح ہوگا یانہیں،چونکہ درمختارمیں ہے،شہود عادل عند الشافعی [3](امام شافعی رحمہ الله تعالٰی کے ہاں عادل گواہ ہوں۔ت)شہود عادل شرط ہے،اور رجعت کرنے کے بارے میں الله تعالٰی فرماتا ہے: وَّ اَشْہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدْلٍ مِّنۡکُمْ[4](دو عادل گواہ بناؤ۔ت)اور آنحضرت صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:لانکاح الا بولی وشاھدی عدل [5](ولی کے بغیر نکاح نہیں،اور دو عادل گواہوں کے بغیر بھی۔ت)اس عبارت مرقومہ اور بعض کتابوں سے معلوم ہوتاہے کہ فاسق کو نکاح وغیرہ میں مشہود بنانا معتبر نہیں، جب معتبر نہیں ہے تو ثانیۃً تجدید نکاح کرنا چاہئے یا نہیں؟
الجواب:
بلاشبہ بلاعذر ترك جمعہ اورترك جماعت کی عادت موجب فسق ومسقط عدالت و وجہ ردشہادت ہے مگر نکاح میں جو شاہدین کی شرط ہے یہ وقت ادائے شہادت نہیں کہ عدالت کی حاجت ہو بلکہ وقت تحمل شہادت ہے اور اس میں عدالت کچھ ضرور نہیں،حنفی مذہب میں تصریح ہے کہ شاہدین نکاح اگر فاسق بھی ہوں حرج نہیں،درمختارمیں ہے:ولو فاسقین او محدودین فی قذف [6](اگرچہ دوگواہ فاسق ہوں یاقذف کی حد لگائے گئے ہوں۔ت)
[1] فتاوٰی قاضی خان کتاب الشہادات نولکشور لکھنؤ ٣/٥٣٢
[2] درمختار باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٨٢
[3] ردالمحتا ر مع درمختار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٢٦٢
[4] القرآن ٢٥/٢
[5] السنن الکبرٰی للبیہقی لانکاح الابشاہدین وعادلین دارصادر بیروت ٧/١٢٥
[6] درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ١/١٨٧
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع