30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یسقی ماءہ زرع غیرہ اذ الشعر ینبت منہ ولونکح الزانی حل لہ وطؤھا اتفاقا [1]۔ |
تاکہ اس کا پانی غیرکی کھیتی کو سیراب نہ کرے یہ اس لیے کہ جماع سے حاملہ کے بچے کو بال اگتے ہیں،اور اس سے خود زانی نے نکاح کیا تو اس کو جماع بھی جائز ہے۔(ت) |
زید کا قول محض غلط ہے اور اس کا کہنااگرچہ حاملہ اسی مردسے ہے جب بھی نکاح جائز نہیں شریعت پر افترا ہے بلکہ صحیح ومفتی بہ یہ ہے کہ اگر چہ حمل دوسرے کا ہو جب بھی نکاح جائز ہے اوراس کا کہنا کہ شاہد وحاضران محفل کے ٹوٹ جاتے ہیں افتراء برافتراء ہے،مجموعہ خانی سے جو عبار ت اس نےنقل کی ہے صراحۃً اس کے خلاف ہے۔
|
اگر عورت را از زنا حمل ماندہ است خواستن اورواست ونزدیکی کردن روانیست تاآنکہ نزاید۔ |
اگر عورت زنا سے حاملہ ہوجائے تو اس سے نکاح جائز اور جماع جائز نہیں جب تك بچے کو جنم نہ دے دے۔(ت) |
اور وہ جو اسی سے نقل کیا کہ:
|
حربیہ کہ داراالاسلام آمدہ است وحاملہ تا نزاید نکاح نہ کند [2]۔ |
حربی عورت اگر دارالاسلام آجائے اگر حاملہ ہو تو بچے کی پیدائش تك وہ نکاح نہ کرے۔(ت) |
یہ اس میں ہے کہ حربی کافر کی حاملہ عورت دارالاسلام میں آکر مسلمان ہوگئی نہ کہ حمل زنا میں،والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٥٢: از(برہما)ڈاك خانہ چیگانگ محلہ میذنگ ضلع اکیاب مرسلہ محمد عمر صاحب ٥ ربیع الآخر ١٣٣٦ھ
|
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی فی الفتاوٰی قاضی خاں وان ترك الجمعۃ ثلاث مرات یصیر فاسقا کذا ذکر فی بعض المواضع و بہ اخذ شمس الائمہ السرخسی رحمہ اﷲ تعالٰی وذکر فی بعض المواضع انہ یبطل العدالۃ انتھی،وان ترك الصلٰوۃ بالجماعۃ ولم یستعظم ذلك کمایفعل بہ العوام بطلت عدالتہ |
حضرات علمائے کرام الله تعالٰی تم پر رحم فرمائے،آپ کا کیا حکم ہے کہ فتاوٰی قاضی خاں میں ہے کہ اگر کسی نے تین جمعے ترك کردئے تو وہ فاسق ہوگا،یوں ہی بعض مقامات پر مذکور ہے جس کو شمس الائمہ سرخسی رحمہ الله تعالٰی نے لیا ہے اور بعض مقامات پر انھوں نے ذکرکیا کہ اس کی عدالت ختم ہوجائے گی اھ اور اگر کسی نے نما ز باجماعت کو اہمیت نہ دیتے ہوئے ترك کیا جیسا کہ عوام کرتے ہیں تو اس کی عدالت باطل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع