30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فرزند نزاید نکاح نہ کند دیگر روایت از امام آنست کہ نکاح درست ست اگر حاملہ باشد فامانزدیکی بآں عورت شوہر نہ کند تاآں زمان کہ فرزند نزاید چنانچہ عورت را از ز نا حمل ماندہ ست خواستن اور واست ونزدیکی کردن روانیست تا آں زمان کہ فرزند نزاید واگر یکے ا ز میان زن وشوہر مرتد شد فرقت میا ں ایشاں واقع شود فاما طلاق واقع نشود ایں امام اعظم امام اابویوسف رحمہما الله تعالٰی ونزدیك امام محمد اگر مرتد شدہ است فرقت واقع شدہ است بے طلاق پس اگر مرد مرتد شدہ است وبازن نزدیکی کردہ باشد تمام مہر بر او لازم شود اگر نزدیکی نہ کردہ است چیزے از مہر لازم نشود ونفقہ نیز لازم نشود اگر خودازخانہ مرد بیروں آمدہ باشد واگر خودازخانہ مرد بیروں نیا مدہ باشد نفقہ برمرد لازم شود [1]۔ |
حاملہ سے نکاح جائز مگر بچے کی پیدائش سے قبل اس سے جماع جائز نہیں ہے۔اگر خاوند بیوی سے کوئی ایك مرتد ہوجائے تو دونوں کی فرقت ہوگی لیکن طلاق نہ ہوگی،یہ قول امام اعظم ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمہما الله تعالٰی علیہ کاہے۔اور امام محمد رحمہ الله تعالٰی کے نزدیك اگر صر ف خاوند مرتدہوجائے تو فرقت ہوجائے گی طلاق نہ ہوگی،تو خاوند کے مرتدہونے کے بعد اگر اس نے بیوی سے جماع کیا تو مکمل مہر لازم ہوگا،اور مرتدہونے کے بعد جماع نہ کیا تو مہر اور نفقہ لازم نہ ہوگا،بشرطیکہ عورت خودا س کے گھر سے علیحدہ ہوچکی ہواور اگر اس کے گھر میں ہو تو نفقہ مرد پر لازم ہوگا،(ت) |
الجواب:
(١)الله عزوجل فرماتاہے: اِنَّ اللہَ لَایَاۡمُرُ بِالْفَحْشَآءِ ؕ[2]بیشك الله عزوجل بے حیائی کا حکم نہیں فرماتا۔ ایك عورت پر دو مردو ں کااجتما ع صریح بے حیائی ہے،جسے انسان تو انسان جانوروں میں بھی جو سب سے خبیث تر ہے یعنی خنزیر وہی روا رکھتا ہے۔حرمت زنا کی حکمت نسب کا محفوظ رکھنا ہے،ورنہ پتا نہ چلے کہ بچہ کس کا ہے۔اگر عورت سے د ومردوں کا نکاح جائز ہو تو وہی قباحت کہ زنا میں تھی یہاں بھی عائد ہو معلوم نہ ہوسکے کہ بچہ کس کا ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
(٢)جسے زنا کا حمل ہو والعیا ذبالله تعالٰی اور وہ شوہر دار نہ ہو اس سے زانی وغیرزانی ہر شخص کا نکاح جائزہے فرق اتنا ہے کہ غیر زانی کو اس کے پاس جانے کی اجازت نہیں جب تك وضع حمل نہ ہولے،اور جس کا حمل ہے وہ نکاح کرے تو اسے قربت بھی جائز،درمختارمیں ہے:
|
صح نکاح حبلی من زنا وان حرم وطؤھا و دواعیہ حتی تضع لئلا |
زنا سے حاملہ کا نکاح صحیح ہے اگر چہ اس سے وطی اور اس سے متعلقہ امور حرام ہیں جب تك وہ بچے کو جنم نہ دے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع