30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اذاتمت عدۃ الاول حل للثانی ان یتزوجھا لالغیرہ مالم تتم عدۃ الثانی بثلاث حیض من حین التفریق ١[1]۔ |
جب پہلی عدت پوری ہوجائے تو دوسرے خاوند کو اس سے نکاح حلال ہوگا،تفریق کے بعد جب تك دوسری عدت کے تین حیض مکمل ہوجائیں اس وقت تك کسی غیر کے لیے حلال نہ ہوگی۔(ت) |
مسئلہ ١٥٠: ا ز موضع بھوٹا بھوئی بسوٹولانڈ ملك افریقہ مرسلہ جناب حاجی اسمٰعیل میاں بن حاجی امیر میاں صدیقی حنفی قادری
(١)زید سوال کرتا ہے کہ خدانے مر دکو حکم دیا دو دو تین تین چار چار،اور عورت کو کیوں نہیں ملا کہ تم دو دو تین تین چار چار مرد کرو۔
(٢)ایك شخص زانی عوت کا فرہ کو اسلام قبول کرواکے نکاح کیا اب وہ عورت حاملہ ہے مگر اسی مرد سے جس کے ساتھ نکاح ہوا ہے۔آیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ زید کہتا ہے کہ اگرچہ حاملہ اسی سے ہو جب بھی نکاح جائز نہیں اور شاہد وحاضرین کا ٹوٹ جاتاہے۔مجموعہ خانی جلد ثانی ص ٣٩؟:
|
در ہدایہ وکافی آوردہ ست عورتے حربیہ در دارالاسلام آمد برآں عورت عدت لازم نشود خواہ اسلام در دارحرب آورد ہ باشد خواہ نیاوردہ باشد وایں قول امام اعظم ست رحمۃ الله علیہ۔ونزدیك امام ابویوسف وامام محمد رحمہما الله تعالٰی عدت لازم شود،وباتفاق علماء برکنیز کہ درتاخت گیر ند عدت لازم نیست فاما استبراء،لازم ست واگر حربیہ کہ درداراسلام آمدہ ست وحاملہ تاآں زمان کہ |
ہدایہ وکافی میں ہے کہ اگر کوئی عورت دارالاسلام آجائے تو اس پر عدت لازم نہیں خواہ دارالحرب میں مسلمان ہوئی یا نہ ہوئی،یہ امام ابو حنیفہ رضی الله تعالٰی عنہ کا قول ہے،امام ابویوسف اورامام محمد کے نزدیك اس پر عدت لازم ہے اور جنگ میں گرفتار شدہ لونڈی پر عدت لازم نہیں ہے۔یہ سب کاا تفاق ہے،اس پر صرف استبراء لازم ہے،اگر کوئی حاملہ عورت دارالحرب سے دارالاسلام آئی تو وہ بچہ کی پیدائش سے قبل نکاح نہیں کرسکتی،امام صاحب نے ایك دوسری روایت میں فرمایا کہ وہ نکاح کرسکتی ہے لیکن بچے کی پرورش سے قبل اس سے جما ع جائز نہیں ہے جس طرح زنا سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع