30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وسلم لا ضرر ولاضرا ر فی الاسلام [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
نے فرمایا: اسلام ضرر اور نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔(ت)والله تعالٰی اعلم |
مسئلہ ١٤٩: مرسلہ شیخ فضل احمد صاحب درزی بازار کٹرہ متصل کارخانہ میز کرسی یعقوب خاں مورخہ ١٦ محرم الحرام ١٣٣٦ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کے شوہر نے اپنی زوجہ کو طلاق دی عدت گزرنے نہ پائی کہ عورت نے دوسرے شخص کے پاس جا کرکہا کہ تم میرے ساتھ نکاح کرلو ورنہ میں حرام کرنے پر تیار ہوں اس نے یہ خیال کرکے کہ عورت حرام کرنے سے خراب ہوجائیگی اور اس عورت کو سمجھایا کہ تیری عدت گزرجائے،بعدہ نکاح کرلینا مگر عورت نے کسی طرح نہ مانا لہذا اس شخص نے مجبورًا اس عورت سے نکاح کرلیا تو یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ دیگر یہ کہ عرصہ آٹھ ماہ سے یہ عورت اسی شخص کے پاس ہے جس کے ساتھ دوبارہ نکاح کیا،بایں وجہ شفقت ومحبت دونوں میں حدِاعتدال زیادہ ہوگئی کہ تھوڑی دیرکے واسطے بھی نگاہ سے اوجھل ہوناایك کا دوسرے کو ناگوار خاطر ہوتا ہے۔لہذا دوسرا نکاح اگر اس عورت کے ساتھ ناجائز ہو تو کس صورت سے جائز ہو اور خود بھی زوج وزوجہ پریشان ہیں کہ کیونکر نکاح ہو اوراکثر اوقات ہمبستر بھی ہوئے ہیں،بینوا توجروا
الجواب:
وہ نکاح نہ ہوا زنائے خالص ہوا،ان مرد و زن پر فرض ہے کہ فورًا جدا ہوجائیں،مرد اسے چھوڑ دے،پھر اگر پہلے کی طلاق کے بعد ابھی تین حیض نہ آئے ہوں تو انتظارفرض ہے یہاں تك کہ تین حیض شروع ہو کر ختم ہوجائیں ا وراگر ختم ہوگئے ہیں اور یہ دوسرا اس سے نکاح چاہتا ہے تو چھوڑنے کے بعد فورًا کر سکتا ہے،اور اگر عورت کسی تیسرے سے نکاح چاہے تو یہ دوسرا جس دن چھوڑے ا س کے بعد تین حیض شروع ہو کر ختم ہونا لازم ہے۔اس سے پہلے تیسرے سے نکاح نہیں کرسکتی،در ر میں ہے:
|
المطلقۃ اذا تزوجت فی عدتھا فوطئھا الثانی فرق بینھما وتداخلتا عند نا ویکون ماتراہ من الحیض محتسبا منھما جمیعا واذا ا نقضت العدۃ الاولی ولم تکمل الثانیۃ فعلیہا اتمام العدۃ الثانیۃ [2]۔ |
مطلقہ عورت نے اگر عدت میں کسی دوسرے سے نکاح کیا اور اس دوسرے نے اس سے جما ع کرلیا،تو دونوں میں تفریق کی جائے گی اور دونوں عدتیں متداخل ہوجائیں گی،اور آنے والا حیض دونوں کا مشترکہ ہوگا،اور جب پہلی عدت پوری ہوجائے اور دوسری عدت پوری نہ ہو تو دوسری کو تام کرے۔(ت) |
خانیہ وبحر وردالمحتار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع