دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 11 | فتاوی رضویہ جلد ۱۱

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۱

تمھارے کے آئی،اور دی میں نے قبول کی تم نے۔

(٢)باقی عبارت سب وہی ہے صرف بجائے لفظ"سوائے"کے علاوہ استعمال کرتے ہیں۔

(٣)میں سب عبارت وہی ہے بجائے"سوائے"یا"علاوہ"کے لفظ"مع"استعمال کرتے ہیں

(٤)بعض شخص صر ف یہ کہتے ہیں کہ بیچ نکاح تمھارے کے آئی اور دی میں نے اور بعض صرف لفظ"آئی"کہتے ہیں اور بعض شخص صرف لفظ"دی"کہتے ہیں،اس میں کون سا لفظ استعمال کرناچاہئے،اب اعتراض اس لفظ پر ہے کہ جب لفظ سوائے نان نفقہ کہا گیا تو نان ونفقہ دولھا کے ذمہ عائد نہ ہوا بلکہ صرف روپیہ مہر کا عائد ہو ا جیسے کوئی شخص کہے کہ فلاں فلاں شے فلاں شخص کو دی گئی سوائے پگڑی کے یعنی پگڑی نہیں دی گئی،اس طرح لڑکی بالعوض اس قدر مہر کے نکاح میں دی گئی سوائے نان ونفقہ کے یعنی اس لڑکی کانان ونفقہ دولھا کے نکاح میں نہیں آیا،یہی اعتراض لفظ علاوہ کے کہنے سے بھی پیدا ہوتا ہے۔اور جب لفظ مع نان ونفقہ کہاجاتا ہے تو معترض لوگ رجوع کرتے ہیں تعداد مہر کی طرف،اور کہتے ہیں کہ بالعوض اس قدر مہر شرعی مع نان ونفقہ کے کہنے سے نان ونفقہ مہر میں شامل ہوگیا،یعنی جب عورت نان ونفقہ پائے تو وہ مہر مجرادیا جائے اور تعین مہر کاروپیہ اس نان ونفقہ کے حساب سے جب سب پاچکے تو پھر عورت نہ نان ونفقہ پانے کی مستحق رہی اور نہ زر مہر کی،گویا وہ بے نان ونفقہ اورمہر کے نکاح میں رہی،اپنے کھانے پینے کا انتظام عورت خود کرے،معزز فرمائے کہ ہر سہ الفاظ سوائے علاوہ مع کے استعمال کے نکاح درست ہوگااور نان نفقہ بذمہ مرد عائد رہے گایانہیں؟ اور کون سے لفظ کے استعمال سے نان نفقہ عائد ہوگااور کون سے نہیں؟

الجواب:

یہ سب اوہام ہیں اوران کی بحث فضول بھی،اوہام تویوں ہیں کہ جو رقم ذکر کی جاتی صرف مہرکے لیے مقصود ہوتی ہے اورعلاوہ اور ماسوائے اور مع یہ سب مہرکی صفتیں ہوتی ہیں یعنی وہ مہر کہ نان نفقہ سے علاوہ یا ان کے سوا یا ان کے ساتھ ہے علاوہ اور سوائے کے یہ معنٰی کہ اس کا وجوب ا ن کے وجوب پر زائد ہے اور مع کے یہ معنٰی کہ یہ اور وہ وجوب میں شریك ہیں یہی مراد ہوتی ہے اوریہ مفہوم،اوران سے بحث فضول یوں کہ نان ونفقہ ومہر ایسی چیز نہیں کہ اگر بالقصد ان کی نفی بھی کی جائے تو منتفی ہوجائیں یا نکاح میں کچھ خلل آئے،نکاح شروط فاسدہ سے باطل نہیں ہوتابلکہ وہ خود شرطیں ہی باطل ہوجاتی ہیں،اگر اس شرط پر نکاح کیا جائے کہ مہر کچھ نہ ہوگا جب بھی مہرلازم شرعًا ہوگا مہر مثل دینا آئے گا۔اور اگر اس شرط پر نکاح کیا جائے کہ نان ونفقہ کچھ واجب نہ ہوگا جب بھی اپنی صورت وجو ب میں ضرور واجب ہوگا کہ قبل وجوب اسقاط مہمل ہے۔حدیث میں ہے حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

مابال اقوام یشترطون بشروط لیست فی کتاب اﷲ من اشترط شرطا لیس فی کتاب اﷲ

ایسی قوم کا کیا حال ہو جوایسی شرطیں لگا تے ہیں جن کی اجازت کتاب الله میں کسی طرح نہیں،ایسی شرطیں

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن