30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خود ایجاب وقبول کرلیں اس نام کے قاضی کے لیے شرعا کچھ اختیارات نہیں،نہ وہ اجرت کا مستحق،جبکہ نکاح دوسرے نے پڑھایا، نہ قاضی کو دعوت نہ دینے میں کوئی الزام،یہ نکاح خوانی کے قاضی اَسْمَآءٌ سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللہُ بِہَا مِنۡ سُلْطٰنٍ ؕ[1] (یہ اپنے بنائے نام ہیں،شرعی طور ان پر کوئی دلیل نہیں۔ت)والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٤٣: از بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ حکیم ریاض الدین صاحب رضوی ٢٣ ذی القعدہ ١٣٣٥ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك عورت بیوہ جو کہ ا س کے چھوٹے بھائی کی زوجہ تھی اس سے نکاح کیا اور اب اس کے ساتھ میں ایك دختر نابالغ تھی اس دخترکانکاح اس کے سوتیلے باپ جو اس کا پہلے تایا تھا اس نےاپنی ولایت سے نابالغہ کا نکاح ایك لڑکے کے ساتھ کردیا لیکن لڑکی نکاح سے تاہنوز اپنے شوہر کے یہاں نہیں گئی اب ناکحین بالغ ہوئے تو ناکح اپنی منکوحہ کو اپنے گھر بلاتا ہے اورمنکوحہ اس کے گھر جانے سے انکار کررہی ہے اور کہتی ہے کہ تیرا چال چلن ٹھیك نہیں ہے میں تجھ سے نکاح توڑ دوں گی،تو اس صورت میں لڑکی اپنا نکاح فسخ کرسکتی ہے یا لڑکے کو مجاز ہے کہ زبردستی اسے لے جائے اور ولایت ا س کے سوتیلے باپ کی درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
سوتیلا باپ ہونا توکوئی وجہ ولایت نہیں۔ہاں چچا ہونا سبب ولایت ہے۔اگر اس سے مقدم اور کوئی ولی نہ تھا اوریہ لڑکا جس سے اس نے ا س لڑکی کا نکاح کیا مذہب نسب یا پیشہ یا چال چلن میں ایساکم نہ تھا کہ اس سے اس لڑکی کا نکاح باعث ننگ وعار ہو تونکاح ہوگیا،مگرا س لڑکی کو اختیار تھا کہ بالغہ ہوتے ہی فورًا اس نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کرے،جب تو اسے فسخ کرنے کا اختیار ہے،اور اگر ذرا دیر لگائی تو اب نکاح لازم ہوگیا اختیار فسخ نہ رہا،اور اگر وقت نکاح ہی اس لڑکے میں امور مذکورہ میں کوئی کمی تھی جس کے سبب اس لڑکی کا نکاح باعث ننگ وعار ہو،جب نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں فسخ کی کیا حاجت! والله تعالٰی اعلم
مسئلہ۱٤٤ تا ١٤٧: از دلیل گنج پرگنہ جہاں آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ منشی محب الله صاحب ضلعدار پنشنر ٢٣ ذی القعدہ ١٣٣٥ھ
وقت نکاح جو ایجاب وقبول کرائے
جاتے ہیں ا س میں اکثر اشخاص ایك دوسرے کے خلاف اعتراض کرتے ہیں۔
(١)زید کی لڑکی کہ نام ا س کا تم کو معلوم ہے اور بالفعل اس نام کی کوئی
لڑکی اس گھرمیں موجود نہیں ہے بعوض مہر شرعی ا س قدر روپے اور اس قدر دینار سرخ
سلطانی سکہ رائج الوقت سوائے نان نفقہ کے بیچ نکاح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع