30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ١٣٧: بریلی خوجی محلہ مرسلہ عظیم الله صاحب ٤ شعبان ١٣٣٥ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا نکاح زید کے ساتھ بجبر کرایا گیا حالانکہ زید کی منشاء ہر گز نہ تھی جس کے چند شاہد موجود ہیں،بوقت ایجاب قبول کرنے کے زید نے"ہوں"مثل عورات کے کہا اور رخصت نہ ہونے پائی کہ زید اپنے مکان کو چلا گیا،اور اس سے قبل بھی تاریخ مقرر پر زید اپنے گھر سے فرار ہوگیا تھا تو اس صورت میں نکاح زید کا ہندہ کے ساتھ ہوا یا نہیں؟ مہر سے مزین فرمایا جائے۔
الجواب:
نکاح ہوگیا اگرچہ قبول میں صرف"ہوں"جبرا کہا ہو،
|
فان الا کراہ ان تحقق لم یعمل فیما یستوی فیہ الجد والھزل کالنکاح والطلاق والعتاق فکیف مالیس باکراہ۔ |
جبر واکراہ اگر پایا گیا تو ان امور میں موثر(عذر)نہیں بنے گا جن میں قصد ومذاق مساوی ہے مثلا نکاح طلاق اور عتاق اور اگر ان امور میں جبر نہ ہو پھر کیا کہا جائے۔(ت)والله تعالٰی اعلم |
مسئلہ ١٣٨: محمد رحیم بخش عبدالحمید صاحبان ازقصبہ فتر انگر ضلع گوڑگانوہ ١١ شعبان ١٣٣٥ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید جبکہ بے ریش تھا اس کی نسبت(یعنی سگائی)ہندہ سے ہوئی تھی اور زید ہندہ کے مکان پر کسی وجہ سے رہتا تھا یا پرانی رشتتہ داری کی وجہ سے رہتا تھا۔ہندہ کی پھوپھی نے ہندہ کو گود لیا ہوا تھا یعنی ہندہ کی پھوپھی لاولد یابانجھ تھی،ہندہ کے گھر میں سوائے ہندہ کے پردہ نہیں کرتا تھا،ہندہ کی پھوپھی نے زید کے ساتھ اس قدر محبت بڑھائی جوکہ شفقت مادری سے زیادہ تر نظر آتی تھی،آخر کار زیدسے سوال ہم بستری کا کیا،چونکہ اس زمانے میں زید بالکل بے خبر تھا یعنی خدا و رسول اور نماز و روزہ سے بالکل بے خبر تھا۔غرض دونوں کے باہم ناجائز دوستی کئی سال تك رہی،یہاں تك کہ زید اور ہندہ کے والدین نے شادی کردی،چونکہ میاں بیوی میں کمال درجہ الفت اور محبت ہوئی اور ہندہ کی پھوپھی سے کچھ تعلق نہ رہا۔اب چونکہ شادی کو تقریبا اٹھارہ سال گزرگئے اور تین بچے بھی ہوگئے۔آج تك زید کو اس بات کا خیال تك نہ آیا اب زید ایك بزرگ سے شرف بیعت ہوکرخدا اور رسول کی اطاعت میں کمربستہ ہے اور اسی طرح ہندہ بھی پابند شرع ہے اور وہ بھی شرف بیعت ہو چکی ہے باوجود زید کو ہمیشہ کتب احادیث وفقہ سے کام رہتا ہے لیکن یہ مسئلہ آج تك اسکی نظر سے نہیں گزرا اور نہ کسی سے ذکر سنا نہ اس بات کا خیال تھا،اب زید کہتا ہے کہ اکسیر ہدایت کا مطالعہ کر رہاتھا اس میں باب النکاح پر نظر پڑی،اس میں یہ عبارت لکھی پائی کہ پھوپھی بھتیجی یك جانکاح میں حرام ہیں، جب سے زید نے یہ عبارت پڑھی دیوانہ اور پاگل سا ہوگیا ہے کیونکہ نہ عورت یعنی بیوی کو چھوڑنے کا یاراہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع