30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نکال لیا اور فرار کرکے لے آیا۔لڑکی چونکہ بالغ ہے اس نے خود بخود شہر گوجرانوالے جاکر باوجود لڑکی کے والدین کی نارضامند ی اور عدم موجودگی کے اپنے لڑکے سے نکاح کرالیا،اس سے طرفین میں بہت سافساد برپا ہوگیا،جس کی نوبت کچہری تك پہنچی،یہ امر دینی مصلحت کے برخلاف ہوتاہے۔امید ہوسکتی ہے کہ ایسی دست درازی آئندہ بھی ایسی کارروائیوں اور فتنوں کی بانی ہو،جس کا انسداد واجب امر ہے۔کیا ایسے رخنہ انداز آدمیوں کے لیے شریعت میں کوئی سزا مقرر ہے؟ مفصل حال سے آگاہی فرمائیں۔فقط۔
الجواب:
بلا شبہ ایسے لوگ مفسد وفتنہ پرداز اورآبرو ریز فتنہ انگیز مستحق عذاب شدید و وبال مدید ہیں،معاذالله اگرایسی جرأتیں روا رکھی جائیں تو ننگ وناموس کوبہت صدمہ پہنچے گا،کم سے کم اس میں شناعت یہ ہے کہ بلاوجہ شرعی ایذا ء مسلم ہے۔اور نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من اٰذٰی مسلما فقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اٰذی اﷲ [1]۔ |
جس نے کسی مسلمان کو ناحق ایذا دی اس نے مجھے ایذادی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے الله کو ایذا دی۔ |
یہ نکاح جس سے ہوا اگر وہ عورت کا کفو نہیں یعنی مذہب یانسب یا چال چلن یا پیشہ میں ایسا کم ہے کہ اس سے نکاح ہونا اولیائے زن کے لیے باعث ننگ وعار ہے جب تویہ نکاح کہ زن بالغہ نے بے رضائے ولی خود کیا سرے سے ہوا ہی نہیں باطل محض ہے،درمختار میں ہے:
|
ویفتی فی غیر الکفوبعدم جوازہ اصلا بہ یفتی لفساد الزمان [2]۔ |
فساد زمان کی وجہ سے غیر کفو میں نکاح کے عدم جواز کا فتوٰی دیا جائے گا۔(ت) |
اور اگر کفو ہے تووالدین کو ناراض کرکے عورت کا بطور خود نکاح کرلینا خصوصًا وہ بھی اس طورپر جا کر عور ت کے لیے سخت محرومی وناراضی الہٰی کا باعث ہے۔اور امام شافعی رضی الله تعالٰی عنہ کے نزدیك تو اب بھی نکاح نہ ہوا کہ ان کے نزدیك بغیر ولی کے نکاح باطل ہے۔یہ کیا تھوڑی شناعت ہے کہ ایك امام بر حق کے نزدیك عورت بے نکاح ہے۔والله تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع