30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورالفاظ ایجاب وقبول وشواہد اس جلسہ منگنی میں غیر معتبرہوگا،کون فریق حق پر ہے اور بر تقدیر قول بعض مولوی صاحب اس عبارت عــــہ خلاصہ کے کیا معنٰی ہوں گے۔
الجواب:
عبارت خلاصہ کو اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں وہ اس امر میں ہے کہ ایجاب اگر نا متعین کے لیے واقع ہوا تو وہ نکاح صحیح نہیں اور متعین کے لیے واقع ہوا تو صحیح۔اور اس مسئلہ میں حکم یہ ہے کہ ان الفاظ کودیکھا جائے اگر وہ ایجاب قبول کے لیے متعین ہیں تو نکاح ہوجائے گا اگرچہ جلسہ منگنی کا ہو اورا گر خطبہ وعقد میں متردد ہیں تو جلسہ کا اعتبار رہے گا۔جلسہ منگنی کا ہے تو منگنی ٹھہرائیں گے،اور نکاح کاہے تو نکاح۔درمختارمیں ہے:
|
وکذا ھل اعطیتنیھا ان المجلس للنکاح فنکاح وان للوعد فوعد [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
یوں ہی کہا"کیا تونے اپنی لڑکی مجھے دی"نکاح کی مجلس میں نکاح اور وعدہ کی مجلس میں وعدہ ہوگا۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ١٣٦: مرسلہ محمد اقبال و نور محمد صاحبان امام مسجد تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ٩ ربیع الاول ١٣٣٥ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین رحمہم الله تعالٰی مفصلہ ذیل میں،ایك لڑکے کی ایك جگہ منگنی ہوئی تھی نکاح سے پیشتر کچھ عرصہ کے بعد لڑکے اورلڑکی کے والدین کے درمیان کسی خانگی امر کی وجہ سے ناموافقت پیدا ہوگئی جس سے لڑکی والے نکاح دینے سے منکر ہوگئے لڑکے کے والد نے کسی طرح لڑکی کو ورغلا کر چوری بوقت رات لڑکی کو میکے سے
عــــہ: عبارت خلاصہ کی یہ ہے:
|
ابوالصغیر اذا قال زوجت بنتی فلانۃ من ابن فلان بکذا وقال فلان قبلت لابنی ولم یسم الابن ان کان لہ ابنان اواکثر لایجوز وان کان لہ ابن واحد صح [2] ١٢(م) |
نابالغہ کے باپ نے جب کہا میں نے اپنی بیٹی فلانی،فلاں کے بیٹے کو اتنے مہر میں دی،اس کے جوا ب میں دوسرے نے کہا میں نے اپنے بیٹے کے لیے قبول کی اور بیٹے کانام ذکر نہ کیا،تو اگر اسکے بیٹے زیادہ ہوں تو نکاح نہ ہوگا اور اگر ایك ہی بیٹا ہو تو نکاح صحیح ہوگا ١٢(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع