30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نکاح کیا جائے توا س میں کسی کی اجازت درکارہوگی،عورت خود اپنے اختیار سے نکاح پڑھ سکتی ہے یااس کے رشتہ دار یا کسی اور شخص موجودہ کی اجازت درکار ہوگی
(٢)ایسی عورت جس کا خاوند مرجائے اس کا نکاح اس کے جیٹھ سے ہوسکتاہے یا نہیں اور وہ کیسی حالت میں اور کس وقت کن شرائط پر۔
الجواب:
عدت میں نکاح باطل وحرام محض ہے سہوًا ہو خواہ اقصدًا رہا،بعد عدت اگرعورت نابالغہ ہے تو اجازت ولی مطلقًا درکار ہے۔اور اگر بالغہ ہے تو دو صورتیں ہیں جس سے نکاح کیا چاہتی ہے اگر وہ اس کاکفو ہے یعنی مذہب نسب وچال چلن پیشہ کسی با ت میں ایسا کم نہیں کہ اس سے اس کا نکاح اس کے اولیاء کے لیےباعث ننگ و عار ہو جب تو یہ خود اختیار رکھتی ہے اجازت ولی کی حاجت نہیں،اور اگر غیر کفو ہے اور عورت کا کوئی ولی شرعی نہیں جب بھی اپنے نفس کااختیار ہے اور اگرولی شرعی ہے مثلا بیٹا یاباپ یا دادا پردادا کی اولاد کا کوئی مر د بترتیب فرائض تو جب تك وہ پیش ازنکاح اسے غیر کفو جان کر اس نکاح کی اجازت صراحۃً نہ دے گا عورت کے کئے نکاح نہ ہوسکے گا باطل محض ہوگا۔
|
یفتی فی غیر الکفو بعد م جوازہ اصلا بہ یفتی لفساد الزمان١[1] درمختار۔ |
فساد زمان کی وجہ سے غیر کفو میں اصلا نکاح نہ ہونے کا فتوٰی دیا جائے گا۔درمختار(ت) |
(٢)بعدعدت جیٹھ سے نکاح جائز ہے جبکہ کوئی مانع مثل رضاعت یا مصاہرت یا جمع محارم نہ ہو اور نکاح کی وہی شرطیں ہیں جوابتدائے نکاح میں ہوتی ہیں کوئی نئی شرط نہیں۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٣٥: از بلاسپور سی پی،مرسلہ جناب حاجی آدم جی حاجی یعقوب صاحبان ١٦ شعبان ١٣٣٤ھ
کیا فرماتے ہیں بعض علماء کہتے ہیں اگر جلسہ منگنی میں ایجاب وقبول ہوں تو بھی نکاح ہوگا اور شرط نکاح پائی گئی تو وہی جلسہ جلسہ نکاح ہوگا جیساکہ درمختا ر عــــہ و غایۃ الاوطار میں ہے،اور بعض مولوی کہتے ہیں وہ جلسہ جلسہ نکاح نہ ٹھہرے گا
عــــہ:درمختار میں ہے: کذاانا متزوجك اوجئتك خاطبا [2](یوں ہی اگرکہا،میں تجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں یا میں تجھے نکاح کا پیغام دینے آیاہوں۔ت) غایۃ الاوطار میں ہے:"اس واسطے نکاح صحیح ہوجائے گاکہ مول چکانا نکاح میں رائج نہیں [3]"١٢(م)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع