30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
جو عورت معاذا لله زنا سے حاملہ ہو اس سے نکاح صحیح ہے خواہ اس زانی سے ہو یا اس کے غیر سے،فرق اتنا ہے کہ زانی جس کا حمل ہے وہ اس سے قربت بھی کرسکتاہے اور غیر زانی اگر نکاح کرے تو تاوضع حمل قربت نہیں کرسکتا۔
|
لئلا یسقی ماءہ زرع غیرہ ١[1] درمختار،وصحح نکاح حبلی من زنا [2]تنویر الابصار۔ |
تاکہ دوسرے کی کھیتی کو اپنے پانی سے سے سیراب نہ کرے۔درمختار،زنا سے حاملہ کا نکاح صحیح ہے۔تنویر الابصار (ت) |
عدت زن شوہر دارپر ہوتی ہے،جب شوہر مرے طلاق دے اور ذات زوج کا حمل زوج ہی کا ٹھہرتا ہے قال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم: الولد للفراش وللعاھر الحجر [3](بچے کا نسب نکاح والے کے لیے ہے زانی کو محرومی ہے۔ت)آیہ کریمہ میں"اولات الاحمال"سے یہی مراد ہے صدر کلام خاص صورت طلاق ارشاد ہوئی ہے اور اسی کی تفصیل فرمائی گئی۔
|
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوۡہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّۃَ ۚ[4]۔ |
اے نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عورتو ں کو طلاق دیتے وقت ان کی عدت کا پا س کر و اور عدت کا شمار کرو۔(ت) |
حدیث مذکورہ بطلان نکاح حبلی من زنا پر ہر گز دلیل نہیں بلکہ اگر دلیل ہے تو صحت نکاح پر کہ فرمایا"فرق بینھما"معہذا ممکن ہے کہ وہ تفریق ارشادی ہو یعنی ایسی عورت رکھنے کے قابل نہیں،غرض صورت مستفسرہ میں عورت کا نکاح بیشك صحیح تھا اب اگریہ شخص اس سے قربت کرچکا ا س کے بعد طلاق دی،یاقربت نہ کی تھی تو ایك لفظ میں تین طلاقیں دیں،مثلًا یہ کہ تو تین طلاق سے مطلقہ ہے،تو ان دو نوں صورتوں میں طلاق مغلظہ ہوگئی اور بغیر حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا۔اور اگر ہنوز قربت نہ کی تھی اور متفرق لفظوں میں تین طلاقیں دیں مثلًا تجھ پر طلاق ہے طلاق ہے تو طلاق بائن ہوئی مغلظہ نہ ہوئی بے حلالہ اس سے دوبارہ نکاح کرسکتاہے۔والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٣٣ تا ١٣٤:مرسلہ الف خاں صاحب مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ سانگو ریاست کوٹہ راجپوتانہ ٢٣ صفر ١٣٣٥ھ
(١)یہ کہ بیوگان کا عقد مابین ایام عدت سہوًا ہوجائے تو یہ درست ہے کہ نہیں یا بعد گزرجانے ایام مذکورہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع