30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شخص عاقد وعقد وہندہ وارثان الف پر مستعد شرہے اور رخصتی چاہتا ہے۔لڑکی جانے سے انکار کرتی ہے۔احتمال ہے رخصتی کرنے سے لڑکی جان بہلا ك ہو،اس لیے دست بستہ عرض ہے کہ یہ ولایت واذن یتیمہ کا صحیح ہوایا نہیں،اور عقد ونکاح صحیح ہوسکتاہے یا نہیں؟ اور ایسے عاقد و عقد وہندہ وعقد پڑھانے والوں پر کچھ حد شرع ہوسکتا ہے یا نہیں؟ امیدکہ فی سبیل الله یتیمہ مظلومہ پر رحم فرمایا جائے،اور ان سب امور کی بشرط توفیق رفیق تحقیق حقیقی خلاصہ بیان قابل اطمینان،جواب باصواب صاف صاف مفصل بعبارت اردو مدلل بدلائل شرعیہ احمدیہ حنفیہ مزین بمہر ودستخط تحریر صحیح عنایت فرماکر ممنون ومشکور فرمایا جائے،اور کار خیر وثواب عظیم میں داخل ہوجائیے اور مجھ کو معصیت سے نجات دلائیے۔بینوا توجروا
الجواب:
حقیقت کا علم الله عزوجل کو ہے۔اگر یہ بیان واقعی ہے کہ الف اس وقت نابالغہ تھی اور اس کے چچا نے نہ اس وقت اجازت دی نہ اس سے پہلے۔نہ خبر نکاح سن کر کوئی قول وفعل دلیل اجازت اس سے صادر ہواا ور الف کی رخصت اور چند بار شوہر کے یہاں جانا،یہ بھی اس کی بلا اجازت کے ہو،اور اس وقت تك اس نے کوئی کلمہ اس نکاح کے رد کا بھی نہیں کہا،نہ الف کے ہنوز کوئی اولاد ہوئی،تو ان سب شرائط کے ساتھ وہ نکاح الف کے بالغہ ہونے تك چچا کی اجازت پر موقوف تھا اور بعد بلوغ الف خود الف کی اجازت پر موقوف ہوا،ا ب اگر یہ بیان واقعی ہے کہ بعد بلوغ الف سے کوئی قول وفعل مثبت اجازت صادر نہ ہو ابلکہ اسے نکاح پر انکار ہے تو ناراضی ظاہرکرتے ہی وہ نکاح کہ موقوف تھا رَد ہوگیا،الف کو اختیار ہے کہ بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے اگر خلوت صحیحہ واقع ہوچکی ہو جیسا کہ عبارتِ سوال سے ظاہر ہے،اور اگر خالی جانا آنا ہوا اور ایك مکان میں تنہا تھوڑی دیر کے لیے بھی نہ ہوئے توعدت کی بھی حاجت نہیں،اور عاقد اسے اگر اپنے تصرف میں لایا تو شرائط مذکورہ کے ساتھ مرتکب حرام ہوا کہ نکاح موقوف میں قبل اجازت وطی حرام ہے اور وطی کہ الف کی نابالغی میں واقع ہوئی دلیل اجازت نہیں ہوسکتی اگرچہ اس کی اجازت سے ہو،عقد پڑھانے والا اگر اس بدنیتی میں شریك تھا تو وہ بھی گناہگار ہے ورنہ عقد موقوف فی نفسہٖ جرم نہیں۔والله تعالٰی اعلم،
مسئلہ ١٣٢: مرسلہ حاجی ولد میاں صاحب از ضلع گونڈا ریاست بلرام پور بازار چوك ٨صفر ١٣٣٥ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مثلا زید نے ہندہ سے جوزنا سے حاملہ تھی دیدہ ودانستہ حالت حمل میں نکاح کیا بعد اس کے چند آدمیوں نے مجبور کرکے ایك جلسہ میں تین طلاقیں دلوادیں،یہ نکاح اور طلاق جائز ودرست ہوایا نہیں؟ بر تقدیر اول وضع حمل کے بعد جدید نکاح ہوسکتاہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع