دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 11 | فتاوی رضویہ جلد ۱۱

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۱

(٢)اس وقت کوئی زندہ نہ تھا۔

(٣)ہندہ یکم شوال ١٣٣٤ھ روزشنبہ کو بالغہ ہوئی بوقت ظہر قریب ڈھائی بجے کے گھڑی نہ تھی منٹ دیکھے جاتے۔

(٤)بالغہ ہونے کے دن یعنی یکم شوال ١٣٣٤ھ روز شنبہ تین بجے دعوے کا لفظ منہ سے نکلا۔

(٥)زید مذہب میں اہل سنت حنفی مسلمان ہے۔نسب اچھا ہے،پٹھان،اور چال چلن اور پیشہ میں بھی موافق۔
(٦)ہندہ کا نکاح سوتیلے والد کی اجازت سے ہوا ونیز رخصت،حالانکہ ماں کی مرضی نہ تھی مگر خاوند کے کہنے سے اور زبردستی سے۔

الجواب:

اگر یہ بیانات واقعی ہیں اور ہندہ کی ماں نے کہ صورت مذکورہ میں وہی ولی شرعی ہے اس کے نکاح کی اجازت نہ دی،نہ بعد کو جائز کرنے کا کوئی لفظ کہا،نہ کوئی فعل ایسا کیا کہ دلیل اجازت ہو تو یہ نکاح نکاح فضولی ہوا،اور والدہ ہندہ کی اجازت پر موقوف تھا،اگرقبل بلوغ ہندہ ا س کی والدہ نے اس نکاح سے ناراضی اور اس پر انکار ظاہر کردیا توجبھی وہ نکاح باطل ہوگیا،اب ہندہ کو طلب فسخ کی حاجت نہیں،اور اگر والدہ ہندہ اب تك ساکت رہی تھی انکار نہ کیاتھا اگرچہ ناراض تھی تو ہندہ کے بالغہ ہوتے ہی وہ نکاح موقوف،اب خود اس کی اجازت پر موقوف ہوگیا،جب اس نے اس پر ناراضی ظاہر کی باطل ہوگیا،اور کسی دعوے کی ہندہ کو حاجت نہیں،اوراگروالدہ ہندہ قبل بلوغ ہندہ اسے قولًا یا فعلًا جائز کرچکی تھی اور وہ جائز کرنا شوہر کے جبر واکراہ شرعی سے تھا جب بھی ظاہر یہی حکم ہے کہ وہ اجازت اجاز ت نہ ہوئی،اور اگر بخاطر شوہر تھا اگرچہ وہ ناراض تھی تو اجازت یقینا صحیح ہوگئی او رنکاح نافذہوگیا،اب ہندہ کو صرف خیار بلوغ رہا اس لیے کہ حسب بیان سائل شوہر ہندہ ہندہ کا کفو ہے اس صورت میں ہندہ کو بالغ ہوتے ہی فورًا دعوٰی فسخ کرناتھا اس نے بالغہ ہونے کے آدھے گھنٹہ بعد دعوٰی کیا تو یہ دعوٰی نامسموع ہے اور نکاح لازم ہوچکا۔اب ہندہ کے لیے اس میں کوئی چارہ کار نہیں"وبعیدغایۃ البعد انھا لم تعلم بالنکاح الابعد البلوغ حین ادعت الفسخ"(یہ انتہائی بعید ہے کہ کسی لڑکی کو بلو غ ہونے کے بعد دعوٰی فسخ کے وقت ہی نکاح کا علم ہوا ہو۔ت)والله تعالٰی اعلم

مسئلہ ١٢٨:              مسئولہ عبدالعزیز صاحب جمعدار انجینئری کوٹہ راجپوتانہ نیاپورہ       چہار شنبہ ١٩ ذوالقعدہ ١٣٣٤ھ

قاضی شہر کے علاوہ ا گر کوئی دوسرا شخص پابندشریعت شرع شریف کے مطابق نکاح پڑھاوے یا دیگر مسلمان نکاح پڑھاوے اور اس کا اندراج رجسٹر قاضی شہر میں نہ ہو تو کیا وہ ناجائز ہے ؟ اس کا جواب بھی دیجئے۔فقط


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن