30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ معاملہ عمر بھرکے حلال اور اولاد کے حلالی اور حرامی ہونے کا ہے۔عورت پر فرض ہے کہ جو بات واقعی ہو ظاہر کردے اخفاء نہ کرے،والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٢٢ تا ١٢٧: مسئولہ محمد اسحاق صاحب برمکان قادر بخش دفعدار محلہ شاگرد پیشہ ریاست جاورہ ملك مالوہ چہار شنبہ ٢٩ شوال ١٣٣٤ھ
مخدوم ومکرم جنا ب مولٰنا مفتی احمد رضاخاں صاحب دام مجدہم،السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ،التماس ہے کہ میں حضور عالی کو امور ذیل کے لیے تکلیف دیتا ہوں امید ہے کہ معاف فرماویں گے۔مسماۃ ہندہ کا نکاح بعمر گیارہ سال سوتیلے والد کی اجازت سے زید کے ہمراہ ہوا،بعد نکاح ہندہ چند یوم زید کے گھر رہ کر والدین کے گھر چلی آئی اور وہاں سے بغیر اجازت زید ہندہ والدین کے ہمراہ چالیس کو س دور جاکر سکونت اختیار کی اور قریبًا ایك سال ہندہ کو اپنے والدین کے گھر رہتے ہوئے ہوگیا زید نے اب آن کر رخصت زوجہ کا دعوٰی کیا چونکہ اب ہندہ تیرھویں سال میں ہے اور اپنا بالغہ ہونا کہتی ہے اور بوقت نکاح نابالغہ تھی نکاح فسخ کرنا چاہتی ہے کہ میں نابالغہ تھی اورمیرا نکاح سوتیلے والد کی اجازت سے ہو ا میں فسخ کراؤں گی ایسی صورت میں شرع شریف کیا حکم دیتی ہے؟
الجواب:
سائل کو چند امور کا جواب دینا چاہئے:
(١)ہندہ کا کوئی ولی ہے یا نہیں؟ مثلاٍ جوان بھائی یا چچا یا چچا کابیٹا یا دادا پردادا کی اولاد میں کوئی مرد؟
(٢)اگر ہے تو وہ وقت پر موجود تھا یا نہ تھا،اگر تھا تو خبر نکاح سن کر کچھ بات کی یا نہیں؟ اور اگر کی تو کیا کہا؟
(٣)ہندہ کس مہینے اور وقت میں بالغہ ہوئی،کیا گھنٹہ منٹ تھا؟
(٤)وہ کب سے دعوی فسخ کرتی ہے۔اس کو کتنے دن ہوئے،کس مہینے تاریخ وقت میں اس دعوٰی کا لفظ منہ سے نکلا؟
(٥)جس سے نکاح ہوا وہ مذہب،نسل،چال چلن،پیشہ میں موافق ہے یا کم وبیش ہے تو کیا اور کس قدر؟
(٦)ہندہ کا نکاح یا رخصت اس کی ماں کی مرضی سے ہوئی یا بلا مرضی؟
ان سوالوں کا جواب آنے پرجوا ب دیا جائے گا۔
جواب سوالات
(١)ہندہ کا کوئی ولی مرد جیسا ارشاد ہوا زندہ نہیں۔ازواج میں ماں ہندہ کی حیات ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع