30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
حیثیت کا لحاظ رکھنا مناسب ہے مگر نکاح ہرطرح ہوجائے گا اگرچہ نان شبینہ کے محتاج پر تمام خزائن دنیا کے بر ابر مہر باندھا جائے مہر نکاح میں اصل نہیں ولہذا نفی مہرکے ساتھ بھی نکاح صحیح ہے مہر مثل لازم ہوگا اور جب رقم معین کردی اگرچہ کسی قدر کثیر تووہ ضرور ذمہ پر لازم ہوگی انسان اگرچہ بادشاہ ہفت اقلیم ہو اس کی حیثیت محدود ہے ذمہ کی وسعت محدود نہیں اگر محتاج محض ہو،حدیث میں فرمایا:المال غاد ورائح(مال صبح وشام آنے جانے والی چیز ہے۔ت)وہ کہ جنھیں روٹی نصیب نہ تھی آنکھوں دیکھتے والی ملك ہوگئے،البتہ یہ ضرورہے کہ طرفین اسے دین سمجھیں اور شوہر نیت ادا رکھے، ایك صحابی رضی الله تعالٰی عنہ محض مفلس تھے،نکاح کیا،مہر کثیر کی درخواست کی گئی قبول فرمالی اور فرمایا: علی اﷲ وعلی رسولہ المعال اﷲ اورا س کے رسول پر بھروسہ ہے یعنی وہ عطافرمادیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔خود قرآن عظیم فرماتا ہے:
|
وَلَوْ اَنَّہُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ ۙ وَقَالُوۡا حَسْبُنَا اللہُ سَیُؤْتِیۡنَا اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ وَرَسُوۡلُہٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِلَی اللہِ رٰغِبُوۡنَ ﴿٪۵۹﴾[1]۔ |
اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ راضی ہوتے الله ورسول کے دئے پر،اور کہتے ہمیں کافی ہے اب ہمیں دیتے ہیں الله ورسول اپنے فضل سے،بیشك ہم الله ہی کی طرف روئے نیاز لاتے ہیں۔ |
ایسی حالت میں کوئی الزام بھی نہیں بلکہ نکاح نیت صحیحہ اور حاجت صادقہ کے ساتھ کیا گیا ہے تو حسب وعدہ صادقہ حدیث صحیح الله عزوجل اس دین کا ضامن ہے۔امیرالمومنین عمر فاروق رضی الله تعالٰی عنہ نے ایك بار خطبہ میں مغالاۃ فی المھور یعنی حیثیت سے زیادہ مہر باندھنے پر انکار شدید فرمایا،حاضرین میں سے ایك بی بی اٹھیں آیہ کریمہ" وَّاٰتَیۡتُمْ اِحْدٰىہُنَّ قِنۡطَارًا"[2] (تم ان عورتوں کوڈھیر مال دیتے ہو۔ت) تلاوت کی جس میں سونے کا ڈھیر عورت کے مہر میں مقرر کرنا جائز فرمایا گیا فورًا امیر المومنین نے انکار سے رجوع فرمائی اور بکمال تواضع فرمایا:
|
اللھم کل احد افقہ من عمر حتی المخدرات فی المحال [3]۔ |
اے اللہ! عمر سے ہر ایك زیادہ فقیہ ہے حتی کہ پردہ دار عورتیں بھی۔(ت) |
ہاں یہ ناجائز ہے کہ مہرباندھے اور ادا کی نیت نہ ہو اگرچہ اس کی حیثیت سے کتنا ہی کم ہو،اس کو حدیث میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع