30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الوجہ تقدیر النفاذ فان الموقوف من الصحیح غیر انہ اراد بالصحۃ النفاذ علی التبادر۔واﷲ تعالٰی اعلم |
اس کو درست کرنے کے لیے لفظ"نفاذ"مقدر ہے کیونکہ ولی کے بغیر نکاح موقوف ہوتا ہے جو کہ صحیح نکاح ہے مگر یہاں صحت سے مراد نفاذ ہے کیونکہ یہی متبادر ہے۔(ت) والله تعالٰی اعلم |
(٢)شرع میں غیر کفو وہ ہے کہ نسب یا مذہب یا پیشے یا چال چلن میں ایسا کم ہو کہ اس کے ساتھ عورت کا نکاح اولیائے زن کے لیے باعث ننگ وعار ہو،ایسے شخص سے اگر بالغہ بطورخودنکاح کرے گی نکاح ہوگا ہی نہیں اگرچہ نہ ولی نے منع کیا ہو نہ اس کے خلاف مرضی ہو۔یہ نکاح اس صورت میں جائز ہوسکے گاکہ ولی نے پیش از نکاح اس غیر کفو بمعنٰی مذکور کی حالت مذکورہ پر مطلع ہوکر دیدہ ودانستہ صراحۃً بالغہ کو اس کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت دے دی ہو،ان میں سے ایك شرط بھی کم ہو تو بالغہ کا کیا ہوا وہ نکاح باطل محض ہوگا اور ولی کو اس کے فسخ کرنے یا اس کا فسخ چاہنے کی کیا حاجت کہ فسخ تو جب ہو کہ نکاح ہولیا ہو،یہ تو سرے سے ہوا ہی نہیں۔درمختار میں ہے:
|
یفتی فی غیر الکفو بعد م جوازہ اصلا [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم |
غیر کفو میں اصلا نکاح کے ناجائز ہونے کا فتوٰی دیا جائے گا۔(ت)والله تعالٰی اعلم |
ہاں عوام کے محاورہ میں غیر کفو اسے کہتے ہیں جو اپنا ہم قوم نہ ہو مثلا سید و شیخ یا شیخ اور پٹھان یا پٹھان اور مغل،ایسا غیر کفو اگر اس شرعی معنی پرغیر کفو نہ ہو تو بالغہ کا بے اذن ولی بلکہ بناراضی ولی اس سے نکاح کرلینا جائز ہے اور ولی کو اس پر کوئی حق اعتراض نہیں۔درمختار میں ہے:
|
نفذنکاح حرۃ مکلفۃ بلار ضی ولی ٢[2] واﷲ تعالٰی اعلم |
عاقلہ بالغہ حرہ عورت کا نکاح ولی کی رضا کے بغیر بھی نافذ ہوتا ہے۔(ت)والله تعالٰی اعلم |
مسئلہ١١٧: آگر ہ چھاؤنی انجن گودام جی،آئی،پی،ریلوے بابو محمد نیاز خاں اسٹورس کلرك روز چہار شنبہ ٣ رمضان المبارك ١٣٣٤ھ
جنا ب مولوی احمد رضا خاں صاحب کو بعد سلام سنت اسلام ومحبت مشام آن کہ معلوم ہو کہ حضور کو میں تکلیف دیتا ہوں کہ اس مسئلہ میں علماء کیا فرماتے ہیں میرے ایك عزیز کا عقد ایك مسماۃ کے ساتھ ہوا اور اس مسماۃ کے والدین نے لڑکی کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع