30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انھیں اس کام پر متعین کیا تھا،بالعموم ایسے بزرگ خاندان جن سے لڑکی پر دہ نہ کرتی ہو بھیجے جاتے ہیں۔چنانچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا،ہندہ کاباپ ا س شہر میں موجود نہ تھا،اس نے ہندہ کے ماموں کو اس نکاح کے مراسم وتقریبات ادا کرنے کے لیے بذریعہ خط مامور کیاتھا یہ کہا جاسکتا ہے اذن لینے کے لیے ہندہ کے ماموں ہی نے وکیل کو متعین کیا ہوگا درحقیقت یہ یاد نہیں،رخصت اس ہفتہ میں ہوگئی کوئی امر ہندہ کی رغبت ورضامندی کے خلاف نہ اس وقت نہ آج تك بارہ برس گزرنے کے بعد تك کوئی امر ایسا ظہور پذیر نہ ہوا جس سے ہندہ کی نارضامندی ظاہر ہو بلکہ ایسا کمال اتحاد سے زن وشوبسر کرتے ہیں یہ سوال صرف ہندہ کے اس توہم کی بناپر پیداہوتاہے کہ مباد انکاح صحیح نہ ہوا ہو اور عندالله مواخذہ باقی رہے اس کا اطمینان مقصود ہے۔
الجواب:
اگر صورت واقعہ یہ ہے کہ اگر چہ ازانجاکہ اذن لینے والا ولی اقرب نہ تھا ہندہ کا سکوت اذن نہ ٹھہرے اور وہ نکاح نکاح فضولی ہوااور ہندہ کی اجازت پرموقوف رہا،مگر جبکہ پیش از رخصت ہندہ سے کوئی قول وفعل ایسا واقع نہ ہوا جس سے ہندہ کا اس نکاح سے ناراض ہونا سمجھا جاتا اور ہندہ برضا ورغبت ہو کر شوہر کے یہاں آتی تووہ نکاح موقوف نافذ و تام ہوگیا،ا س میں کوئی اندیشہ مواخذہ کا نہیں،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٠٩ تا ١١١: از گونڈل کاٹھیاواڑ مسئولہ جناب سیٹھ عبدالستار بن اسمعیل رضوی تاریخ ٧ ١ رجب المرجب ١٣٣٤ھ روز شنبہ
(١)یہاں پر یہ رواج ہو چلا ہے کہ وقت نکاح وکیل کے ہمراہ دو گواہ نہیں جاتے ہیں اور قاضی وکیل کی وکالت اور حاضرین کی شہادت سے نکاح پڑھادیتا ہے آیا یہ امر عند الشرع محمود ہے یا مردود؟ نیز اس ترکیب سے مذہب حنفی میں نکاح صحیح ہوجائے گا یا نہیں؟ وکیل کو اپنے ساتھ دو گواہ کا رکھنا اور ان شاہدوں کو عورت کی اجازت سننا ضروری ہے یا نہیں: اگر اس طرح نہ کرکے برطریق ان مروجہ پر مدام عمل کرنے پر سب گنہ گار ہیں یا نہیں؟
الجواب
وکیل کے ساتھ شاہدوں کی حاجت کچھ نہیں،اگر واقع میں عورت نے وکیل کو اذن دیااور اس نے پڑھادیا نکاح ہوگیا،ہاں اگر عورت انکار کرے گی میں نے اذن نہ دیاتھا تو حاکم کے یہاں گواہوں کی حاجت ہوگی،یہ تو کوئی غلطی نہیں۔ہاں یہ ضرور غلطی ہے کہ وکیل ہوتا ہے کوئی اور۔نکاح پڑھاتا ہے دوسرا،مذہب صحیح وظاہر الروایہ میں وکیل بالنکاح دوسرے کو وکیل نہیں بنا سکتا،اس میں بہت دقتیں ہیں جن کی تٖفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔لہذا یہ چاہئے کہ جس سے نکاح پڑھوانامنظور ہے اس کے نام کی اجازت لی جائے یا اذن مطلق لے لیا جائے والله تعالٰی اعلم
(٢)نوشہ کا وقت نکاح سہرا باندھنا نیز باجے گاجے سے جلوس کے ساتھ نکاح کوجانا شرعا کیا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع