30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حقیقی نانی کو پہنچتی ہے یا زید نابالغ تایا زاد بھائی کویا بکر کو جو چارپشت کے فاصلہ سے چچا ہوتا ہے؟
الجواب:
(١)لڑکی کم از کم نو بر س میں اور زیادہ سے زیادہ پندرہ بر س کی عمرمیں بالغہ ہوتی ہے اس بیچ میں جب آثار بلوغ ظاہرہوں بالغہ ہے ورنہ پندرہ سال پورے ہونے پر حکم بلوغ دیا جائے گا اگرچہ آثار بلوغ کچھ نہ ظاہر ہوں،بالغہ بے اذن ولی خود اپنا نکاح کرسکتی ہے مگر کفو میں،یعنی جس سے نکاح کرے وہ مذہب یا نسب یا پیشہ یا چال چلن میں اس سے ایسا کم نہ ہو کہ ا س کے ساتھ نکاح ہونا اس کے ولی کے لیے باعث ننگ وعار ہو،اگر غیر کفو سے برضا ئے خود نکاح کرے گی او رولی رکھتی ہے اور اس نے پیش از نکاح غیر کفو جان کر بالتصریح اجازت نہ دی تو نکاح اصلًا نہ ہوگا ہاں اگر کوئی ولی نہیں رکھتی یا ولی نے پیش از نکاح شوہر کو غیر کفو جان کر بالتصریح اجازت دی تو اس سے بھی نکاح صحیح ہوجائے گا۔
(٢)خالد کی جب عمر پندرہ سال کامل ہے تووہ شرعا بالغ ہے اور اپنے نفس کا خود ولی ہے کسی ولی کا محتاج نہیں،اور ہندہ کہ اٹھارہ سال عمر رکھتی ہے اس پر ولایت جبر کسی کو نہیں کہ خود بالغہ ہے اور ولایت غیر مجبرہ اس کے بھائی کو ہے اس کے ہوتے نانی یابکر کوئی چیزنہیں،اور زید نابالغ کو دوسرے کا ولی بنانا جنون ہے نابالغ کسی کا ولی نہیں ہوسکتا۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٠٧: مرسلہ جناب ولی محمد صاحب بیتاب مدرس سرشتہ تعلیم ریاست ہلکراندور بمبئی بازار
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کہ ہندہ ایك کمسن لڑکی کا نکاح اس کے دادا نے ایك نہایت ہی کمسن لڑکے زید سے کردیا،ہندہ اس وقت بالکل بالغہ ہے مگرزید نابالغ،کم از کم پانچ بر س اس کی بلوغت کو درکار ہیں،ہندہ اور زید میں زن وشوہر کا تعلق ہونا کیامعنی بلکہ ہندہ کی آج تك اپنے میکہ سے رخصتی ہی نہیں ہوئی،زید کے یہاں زید کے والد کی حین حیات سے جس کا انتقال یکایك ہوگیا اور گومشتبہ مگر اب تك نامعلوم کسی نہ کسی وجہ سے اس سانحہ کی خبر زید کے چچاتك کونہ دی گئی تھی ایك پردیسی نوجوان ملازم چلا آتا ہے زید کے والدمشتبہ جوانا مر گ کے بعد اس ملازم نے زیدکے مکان میں وہ رسوخ حاصل کیا کہ ہر سیاہ وسفید وہی کرتاہے اورا س کے چوبیس گھنٹہ اس مکان میں رہنے سے جہاں کوئی دوسرا بالغ مرد بطور رکن خاندان کے نہیں رہتاہے زید کے خاندان کو ایك زمانہ حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے اور درپردہ مورد اتہام ہے۔زید کے چچا نے سانحہ مذکورہ بالا سے متعجب ہوکر اس ملازم کے گز شتہ چال چلن کی نسبت جو تحقیقات کی تومعلوم ہو اکہ ابتداء سے یہ ایك آوارہ چلن شخص ہے حتی کہ ا سے والدین نے بھی اس کو مکان سے نکال دیاتھا اس کے بعد وہ عرصہ تك ناٹکوں میں ناچتا رہا گاتا رہابجاتا رہا،اس تحقیق کے بعدمتاثر ہو کر زید کے چچا نے جو زید کاجائز طور سے سرپرست ہے زیدکی والدہ سے درخواست کی کہ اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع