30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرو۔ ت)کی تفسیر ہے کہ اختیت سے ہر علاقہ محرمیت مراد ہے علاوہ بریں کریمہ" وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ"[1] (ا ن کے سوا حلال ہیں۔ ت)عام مخصوص منہ البعض ہے۔قال الله تعالٰی:
|
وَ لَا تَنۡکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّؕ وَلَاَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ مُّشْرِکَۃٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْکُمْۚ[2]۔ |
مشرك عورتوں سے نکاح نہ کرو تاوقتیکہ وہ ایمان لائیں،اور مومن لونڈی،مشرکہ سے بہتر ہے اگرچہ مشرکہ تمھیں پسند ہو۔(ت) |
حدیث کلامی لاینسخ کلام اﷲ [3](میر ا کلام الله کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا۔ ت)محض بے اصل ہے۔ خود صحاح احادیث کثیر ہ میں ہے کہ ارشاد فرماتے ہیں صلی الله تعالٰی علیہ وسلم : دیکھو ایسا نہ ہوکہ کوئی پیٹ بھر ا بے فکر اپنی مسند پر تکیہ لگائے یہ کہے ہم نہیں جانتے جو قرآن میں حلال پائیں گے اسے حلال کہیں گے اور جو قرآن میں حرام پائیں گے اسے حرام کہیں گے [4]۔ الاانی اوتیت القراٰن ومثلہ معہ [5]سن لو میں قرآن دیا گیا اور قرآن کے ساتھ اس کا مثل،اور الاوان ماحرم رسول اﷲ مثل ما حرم اﷲ [6]سنو بیشك جسے رسول الله نے حرام کیا وہ ایساہی حرام ہے جسے الله نے حرام کیا۔خود رب العزت تبارك وتعالٰی قرآن عظیم میں کافروں کی حالت بیان فرماتاہے:
|
وَ لَایُحَرِّمُوۡنَ مَا حَرَّمَ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ[7]۔ |
کافر حرام نہیں جانتے ان چیزوں کو جنھیں الله اور اس کے رسول نے حرام کیا۔ |
اور مسلمانوں سے فرماتا ہے:
|
وَمَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ۚ وَمَا نَہٰىکُمْ عَنْہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ ٨[8]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جو کچھ رسول تم کو عطافرمائیں اس کو لو اورجس سے منع فرمائیں بازرہو۔ |
[1] القرآن ٤/٢٤
[2] القرآن ٢/٢٢١
[3] الکامل فی ضعفاء الرجال ترجمہ جبرون بن واقد دارالفکر بیروت ٢/٦٠٢
[4] سنن ابن ماجہ باب اتباع سنۃ رسول اللہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٣
[5] سنن ابی داؤد باب فی لزوم السنۃ آفتاب عالم پریس لاہور ٢/٢٧٦
[6] سنن ابن ماجہ باب اتباع سنۃ رسول اللہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٣
[7] القرآن ٩/٢٩
[8] القرآن ٥٩/٧
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع