30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حرام،پھر جب دوسری سے قربت کی پہلی سے قربت بھی حرام ہوگئی،جب تك اسے جدا کرکے عدت نہ گزر جائے اولادیں بہر حال عــــہ ولد الحرام ہیں جیسے وہ نطفہ جو حالتِ حیض میں ٹھہرا مگر ولد الزنا نہیں،زیدکا ترکہ ان سب اولاد کو ملے گا۔ ہاں دونوں سے معًا نکاح کیا دونوں زوجہ ورنہ پچھلی ترکہ نہ پائے گی،یہ سب اس صورت میں ہے کہ دونوں سے نکاح کیاہو،اور اگر زوجہ نکاح میں ہے اور سالی سے زنا کیا تو زوجہ سے قربت بھی حرام نہ ہوگی،نہ اس کی اولاد ولد الحرام ہوگی،سالی سے جو بچے ہوں گے ولد الزنا ہوں گے اور زید کا ترکہ نہ پائیں گے،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٠٣: مرسلہ میاں محمد غوث صاحب ضلع اٹك ڈاکخانہ خود بتاریخ ٥ رجب المرجب ١٣٣٤ھ
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
|
لاتنکح المرأۃ علی عمتھا والمرأۃ علی خالتھا نسائی وغیرہ۔ بینوا توجروا |
نسائی وغیرہ میں ہے پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں ان کی بھتیجی اور بھانجی سے نکاح نہ کیا جائے۔(ت) |
جواب: صریحا نص سے پایا جاتا ہے وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ[1] الایۃ(ان مذکورہ محرمات کے ماسوا حلال ہیں۔ت) تو حل ثابت ہوگئی۔ اور حدیث"کلامی لاینسخ کلام اﷲ وکلام اﷲ ینسخ کلامی"[2] (میرا کلام الله کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا اور الله کا کلام میرے کلام کو منسوخ کرتا ہے۔ ت)تو تطبیق کی کچھ حاجت نہ رہی،جب ناسخ ٹھہری تو حرمت اٹھ گئی حل پر حکم پایا گیا۔
الجواب:
|
لاتنکح المرأۃ علی عمتھا ولاعلی خالتھا [3]۔ |
پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں ان کی بھتیجی اور بھانجی سے نکاح نہ کیا جائے۔(ت) |
حدیث صحیح مشہو رہے،مع ھذا وہ مخالف قرآن نہیں بلکہ آیہ کریمہ وان تجموا بین الاختین [4](حرام ہے
عــــہ:یعنی اگر ایك ساتھ نکاح کیا ہو یا آگے پیچھے مگر سب اولاد بعد جمع ہوئی ہو ورنہ وہ اولاد جو دوسری کے نکاح اور قربت سے پہلے ہوئی ولد الحرام نہیں۔ ١٢ مصطفی رضا قادری غفرلہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع