30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بکر سے اس کی دختر کو مانگا اور کہا کہ میں آپ کی دختر کو اپنے پسر کے واسطے مانگنے والا آیا ہوں اوربکر نے بھی بسمع وطاعت قبول کرلیا اور کپڑے وزیورات زیدنے حاضر کئے اورقبول وتقسیم شیرینی وغیر ہ کے دختر کا بھیجنا بھجانا بھی خاطب کے یہاں برابر ہوتا رہا،درمیان میں کسی قدر شکر رنجی کے باعث بکر دختر موصوفہ کو دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے پر آمادہ ہے پس سائل سوال کرتا ہے کہ صورت مذکورۃ الصدر میں ایقاع نکاح ہوا کہ نہیں،کیا صورت بالا میں بکر دختر موصوفہ کو کسی دوسرے کے نکاح میں دے سکتا ہے یا نہیں؟ بینوا بالدلیل وتوجروا بالا جرالجزیل۔
الجواب:
جبکہ وہ جلسہ منگنی کاتھا نہ کہ نکاح کا تو صرف اتنے الفاظ سے کہ سوال میں مذکور ہوئے نکاح منعقد نہ ہوا،اسے دوسری جگہ نکاح کرنے کا اختیار ہے،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٩٩: از نظام علی خاں ولدامام علی خاں پر گنہ سہسوان ضلع بدایوں بھوانی پور خورد ۱۰ جمادی الاولٰی ١٣٣٤ھ
ایك شخص ہمارے یہاں بھوانی پور خورد میں پیش امام تھا اس کی بیوی انتقال کرگئی اور اس کی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیا ہے جو کہ ا س کی سوتیلی ساس تھی یعنی اس کی بیوی کی سگی ماں نہ تھی،اب اس کی بابت ہم کو فتوٰی کی ضرورت ہے حضور کوتکلیف دیتے ہیں کہ ا س مسئلہ کو خوب صحیح طور سے ہم کو آگاہ کیجئے گا نکاح درست ہے کہ نادرست ہے؟ وہ کو ن آیت کلام پاك میں ہے کہ جس سے ناجائز ہے اور وہ کون آیت ہے کہ جس سے جائز ہے اور کون کون پارہ میں ہیں اور وہ کون کون رکوع میں ہیں؟
الجواب
زوجہ کی سوتیلی ماں سے نکاح جائز ہے کہ سوتیلی ماں ماں نہیں ہوتی۔
|
قال اﷲ تعالٰی اِنْ اُمَّہٰتُہُمْ اِلَّا الِّٰٓیۡٔۡ وَ لَدْنَہُمْ ؕ١[1] وقال تعالٰی وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ [2]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
الله تعالٰی نے فرمایا: ان کی مائیں صرف وہی ہیں جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے،اور الله تعالٰی نے فرمایا: ان کے ماسوا تمھارے لیے حلال قرار دی گئی ہیں(ت)والله تعالٰی اعلم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع