دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 11 | فتاوی رضویہ جلد ۱۱

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۱

مسئلہ ٩٢:                                بروز شنبہ                   ٧ ربیع الآخر ١٣٣٤ھ

ایك عورت کا مرد فوت ہوگیا ہے مگر اس کی عدت پوری نہیں ہوئی اس کا نکاح پڑھناجائز ہے؟ اگر کوئی پیش امام یا قاضی عد ت کے اندرنکاح پڑھاوے تو وہ نکاح ہوگا یا نہیں؟ اور اس نکاح پڑھانے والے کے نکاح میں کچھ فساد ہوگا یا نہیں؟ یا اس کا نکاح پڑھانے والے پیش امام کے لیے کچھ کفارہ آتا ہے یا نہیں؟ اور اس کی امامت جائز ہے یا نہیں؟ صورت دیگر یعنی پیش امام نے ایك عورت کانکاح عدت کے اندر پڑھادیا اور پھر دوسرے روز اس نے دومسلمان کے روبرو اقرار کیا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی خدا کے لیے معاف کرو۔ انھوں نے اس کو کہا کہ پیش امام صاحب! آپ کا خودنکاح باطل ہوگیا ہے۔ تو اس نے کہا کہ اچھا میں نکاح دوبارہ چوری سے پڑھالوں گا مگر برائے خدا مجھ کو معاف کروآئندہ کو ایسا نہ کروں گا،مگر پھرا س کوکسی دوسرے مولوی صاحب نے کہہ دیاکہ تم کہہ دو کہ مجھ کو خبر نہ تھی میں نے بے خبری میں نکاح پڑھادیا،تو اس کے لیے شرع شریف کا کیا حکم ہے؟ تو ایسے نکاح پڑھانے والے کی امامت جائز ہے یا نہیں؟ اور جس نے اس کو ایسا جھوٹ کہنا سکھلایا کہ تم کہہ دو کہ مجھ کو خبر نہ تھی،تو اس سکھانے والے کے واسطے کیا حکم ہے؟ اور جولوگ مجلس نکاح میں حاضر تھے ان کا نکاح درست ہے یا کچھ خلل ہوا؟ اور ایسے نکاح پڑھانے والے کی امامت جائزہے یا نہیں؟ اور ایسے نکاح پڑھانے والے کو کچھ کفارہ دینا چاہئے یا نہیں؟

الجواب:

عدت میں نکاح تو نکاح،نکاح کا پیغام دینا حرام ہے۔ جس نے دانستہ عدت میں نکاح پڑھایا اگر حرام جان کر پڑھایا سخت فاسق اور زنا کار کا دلال ہوا مگر اس کا اپنا نکاح نہ گیا،اور اگر عدت میں نکاح کو حلال جانا تو خود اس کا نکاح جاتا رہا اور وہ اسلام سے خارج ہوگیا،بہر حال ا س کو امام بنانا جائز نہیں جب تك توبہ نہ کرے،یہی حال شریك ہونے والوں کا ہے،جو نہ جانتا تھاکہ نکاح پس از عدت ہو رہا ہے اس پر کچھ الزام نہیں اور جو دانستہ شریك ہوا اگر حرام جان کر تو سخت گنہ گار ہوا۔ اور حلال جانا تو اسلام بھی گیا،اور جس شخص نے امام کو جھوٹ بولنے کی تعلیم دی وہ سخت گناہ گار ہوا،اس پر توبہ فرض ہے۔ والله تعالٰی اعلم

مسئلہ ٩٣:               مسئولہ نور احمد ٹھیکدار از مقام پیلی بھیت چنددی لہکڑ ہ پار روز شنبہ                ١٠ ربیع الآخر ١٣٣٤ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی عورت کو طلاق دی،دو تین روز کے بعد دوسرے شخص نے نکاح کرلیا،ابھی عدت گزری نہیں ہے۔ آیا ا س کا نکاح ہوا یا نہیں؟ اگر نکاح نہیں ہوا تو تیس برس تك اس نے حرام کیااور حرام کا مرتکب ہوا،اب ہم برادری والے اس پر جرمانہ ڈالنا چاہتے ہیں،شریعت اس میں کیا حکم لگاتی ہے اور ہم لوگ کون سی اس کو سزادیں،جو حکم شریعت کرے اس کوہم سزادے دیں،


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن