30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسرا مسئلہ ٧٨:
ایك شخص نے دعائے خیر جلسہ میں کہہ دی کہ میں نے لڑکی اپنی اس شخص مثلًا زید کودی،بعدہ وہ یعنی باپ لڑکی کا مرگیا اس کے وارثان نے اس لڑکی کا عقد نکاح دوسرے شخص کو کردیا،آیا دعاء خیر جائز ہے یا وارثان کانکاح جائز ہے؟
الجواب:
دعائے خیر سے اگر وعدہ سمجھا جاتاہے تو وارثو ں نے جو یہ نکاح کیا،جائز ہے۔ اور اگر ا سی و قت نکاح کردینا مقصود ہوتاہے اور زید نے اس جلسہ میں قبول کیا اور دوگواہوں نے معًا سنا اور نکاح ہونا سمجھا تونکاح ہوگیا تھا،دوسرا نکاح باطل ہے۔ والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ٧٩ تا ٨٠: ا ز رامہ تحصیل گوجرخاں ضلع راولپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ تاج محمود صاحب ١٥ محرم ١٣٣٩ھ
(١)کیافرماتے ہیں علمائے دین زید کے بارے میں تین افراد شہادت دیتے ہیں کہ مدعی علیہ نے والد لڑکے کو بولا ہے کہ میں نے اپنی دختر نابالغہ فلانی تمھارے فلا نے لڑکے کو دے دی ہے اس نے قبول لڑکے معلوم کے لیے کرلی ہے اور اس مجلس میں نہ نکاح کا ذکر ہوا نہ خطبہ پڑھا گیا نہ ذکر مہر کاہوا،اس کے علاوہ مدعی علیہ بھی کہتاہے کہ میں نے ارادہ ناطہ کا کیا ہے نہ نکاح کا،اب یہ نکاح ہوگا یا خطبہ یا ناطہ؟
(٢)قرینہ نکاح کاخطبہ اور ذکر مہر کا ہر دو ہوویں گے یافہم شہود نکاح کا فقط کافی ہوگا یانیت ولی دختر پر ہے؟
الجواب:
(١)خطبہ پڑھا جانا یاذکر مہر ہونا کچھ شرط نکاح نہیں،وہ مجلس اگر عقد کے لیے تھی عقد ہوگیا اوراگر مجلس وعدہ تھی اور حاضرین نے اسے وعدہ ہی سمجھا تووعدہ ہوا نکاح نہ ہوا۔
|
فی الدر المختار ان المجلس للوعد فوعد وللعقد فعقد [1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
درمختا ر میں ہے کہ اگر یہ مجلس وعدہ(منگنی)کے لیے ہے منگنی ہے اور مجلس نکاح ہے تو نکاح ہوگا۔(ت) |
(٢)نکاح بالفاظ صریحہ میں نیت شرط نہیں،الفاظ ایجاب وقبول ہونا اور دوشاہدوں کا سمجھنا کہ یہ نکاح ہورہا ہے کافی ہے۔ ذکر مہر نہ ضرور نہ قرینہ،اور خطبہ اگرچہ ضروری نہیں مگر قرینہ نکاح ہے۔والله تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع