30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٧٦: از موضع میرکلی پور ڈاکخانہ لاہور پور ضلع سیتا پور مسئولہ محمدحسین طالب علم ١١محرم ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے شادی کا پیام دیااور اس میں یہ اظہار کیا کہ لڑکالہر پورکا ہے وہ لڑکا قصبہ ہر گام پور کا نکلا،مزیدبریں نوشہ کے تعین علم میں اختلاف رہا۔ لڑکی تو کہتی ہے کہ میرا نکاح عبدالرحمن بن کلو کے ساتھ پڑھاگیا اور قاضی کا بھی یہی قول ہے مگر گواہ لعل محمد بن منوں بتلاتے ہیں اور وکیل لعل محمدبن کلو کا مدعی ہے اور وہ لڑکا جو نوشہ بن کر آیا تھاد راصل ہر گام کاتھا اور اس کا نام لعل محمد بن منوں تھا۔ اس صورت میں نکاح کس کے ساتھ ہوا اور اس میں شرعی حکم کیا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
رائج یوں ہے کہ عورت اس کے ولی سے اذن لے کر دولھا سے خطاب کرتے ہیں کہ فلاں کی فلاں لڑکی اتنے مہرپر تیرے نکاح میں دی،وہ کہتاہے میں نے قبول کی،اس صورت میں جس سے خطاب کیا گیا اور اس نے قبول کیا،اسی کے ساتھ نکاح ہوا،کہیں کا رہنے والا ہو اورا س کا کچھ بھی نام ہو۔ پھر اگر بالغہ عورت یا نابالغہ کے ولی نے اسی کے لیے اجازت دی تھی جب تو یہ نکاح نافذ ہوگیا اگر کوئی مانع شرعی نہ ہو ورنہ فضولی کانکاح ہوا عورت یااس کے ولی کی اجازت پرموقوف رہا،اگر جائز کیا جائے جائز ہوگیا،رد کیاجائے باطل ہوگیا،یہ تو نکاح ہونے نہ ہونے کا حکم ہے،رہایہ کہ نکاح ہوا اور مرد نے دعوٰی کیا کہ میرے ساتھ اس کا نکاح ہوا ا ور اس عورت کے وکیل اور گواہوں کے بیان میں اختلاف ہوا،کسی نے کسی کے ساتھ نکاح ہونا بیان کیااور دوسرے نے کسی کے ساتھ،اگر دو گواہ شرعی عادل قابل قبول دعوٰی مدعی کے مطابق گواہی دے دیں ڈگری کردیا جائے گا عورت و وکیل کچھ کہا کریں،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٧٧: از نوشہرہ تحصیل جامپور ضلع ڈیرہ غازی خاں مسئولہ عبدالغفور صاحب ١٤ محرم ١٣٣٩ھ
ایك شخص کہتا ہے کہ میری اپنی عورت کے ساتھ تن بخشی ہے۔ آیا شرعًا تن بخشی کوئی چیز معتبر ہے یا نکاح؟ بینوا توجروا
الجواب:
تن بخشی پر قناعت صریح زنا ہے اگر اسے حلال جانے تو کافر،
|
انما کان ذٰلك من خصائصہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، قال تعالٰی خَالِصَۃً لَّکَ مِنۡ دُوۡنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ ؕ[1]۔ و اﷲ تعالٰی اعلم |
یہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خصائص میں سے ہے،الله تعالٰی نے فرمایا: یہ خاص آپ کے لیے ہے مومنین کے لیے نہیں۔(ت)والله تعالٰی اعلم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع