30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یا نہیں؟
(ج)اگر ولیمہ بارادہ سنت نہ کرے بلکہ خیال نام آوری وبرادری سے سرخ روئی مقصود ہواور یہ کہتا رہے کہ چونکہ دس دفعہ بھائی لوگ کے یہاں کھاآئے ہیں لہذا برادری کو کھلانا ضرورہے چاہے ہمارے پاس ہو یا نہ ہو،یہ دعوت کیسی ہے؟ اور مستطیع غیر مستطیع دونوں کاحکم فرمائے۔
الجواب:
(١)نابالغ لڑکے اور لڑ کی جن کاتلفظ کلام سمجھاجائے اور وہ الفاظ ومعنٰی کا قصد کرسکیں ان کا ایجاب و قبول خود ہو یا دوسرے کی تلقین سے صحیح ہے،پھر اگر باجازت ولی ہے نافذ بھی ہے ورنہ اجازت ولی پر موقوف جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو،والله تعالٰی اعلم
(٢)ا س کا جواب جواب سوال اول میں آگیا اور ان عقود میں جو کلام پہلے ہے وہ ایجاب ہے اگرچہ بلفظ قبول ہو اورجو بعد کو ہو وہ قبول،اور جب باذن ولی ہو تو ولی کا وہاں موجودہونا ضروری نہیں،اور بلااذن ہو تو اس کی اجازت پر موقوف رہے گا،اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ اولیاء خود ایجاب وقبول کریں یا ان کی اجازت سے ان کے وکیل نابالغوں سے کہلوانے کی کوئی حاجت نہیں۔
(٣)کوئی حرج نہیں۔ والله تعالٰی اعلم
(٤)جائز ہے۔ والله تعالٰی اعلم
(٥)جب جائز ہے تو مسجد میں دینا اور بہتر ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
(٦)یہ ایك مخترع رسم ہے،اسے ضروری سمجھنا ناجائز،اور اگر اصرار حدناگواری تك ہو توحرام ورنہ آپس کے معاملات ہیں جن پر شرع سے منع وارد نہیں۔ والله تعالٰی اعلم۔
(٧)شب زفاف کی صبح کو احباب کی دعوت ولیمہ ہے،رخصت سے پہلے جو دعوت کی جائے ولیمہ نہیں،یونہی بعد رخصت قبل زفاف اور ریا وناموری کے قصد سے جو کچھ ہو حرام ہے۔ اور جہاں اسے قرض سمجھتے ہیں وہاں قرض اتارنے کی نیت میں حرج نہیں اگرچہ ابتداءً یہ نیت محمود نہیں۔ والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٧٣: از سلطان پورہ ہکراسٹیٹ مسئولہ مرتضٰی خاں پی
سارجنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس آفس ١٧ ذی الحجہ ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید قاضی ہے مگر وکالت کرتا ہے اس کا
کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
وکالت کا پیشہ جس طرح آج کل رائج ہے شرعًا حرام ہے۔ ایسے شخص کوقاضی کرنے کی اجازت نہیں والله تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع