30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اگر ہزار حاضر باشند ہیچ کس نکاح نہ فہمد کہ منگنی نزد ایشاں چیزے ازمقدمات نکاح ست نہ نکاح والله تعالٰی اعلم۔ |
میں ہے نکاح میں دوگواہوں کا ہونا جویہ سمجھیں کہ یہ نکاح ہے شرط قرار دیا گیا،یہ مذہب ہے بحر۔ا ور یہاں مذکور ہ صورت میں مجلس میں ہزار بھی ہوں تو کوئی بھی اس کو نکاح نہ سمجھیں گے کیونکہ منگنی کو وہ نکاح نہیں بلکہ اس کے مقدمات میں سے سمجھتے ہیں۔ والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ٦٢: ا زچونیاں ضلع لاہور مسئولہ ضیاء الدین انچارج اصطبل گورنمنٹی ٨ شوال ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے حسب ہدایت والد خو د جس نے اس کی ہدایت کی تھی کہ اپنی فلاں دختر کاناطہ اپنے فلاں برادر حقیقی کو دینا تب سے راضی ہوگیا چنانچہ اپنے والد کی موجودگی اور چند مسلمانوں کی مجلس میں اپنے برادر حقیقی کو مخاطب کرکے کہا میں نے اپنی فلاں نام والی دختر بالغہ کا ناطہ تمھارے فلاں بالغ کو دے دیا،والد پسر نے قبول کرلیا،آیا ہر دو ولیوں کے ایجاب وقبول سے یہ نکاح منعقدہو گیایا نہیں؟ اگر ہوگیا تو اب والدِ دختر اس کا اور جگہ نکاح کرسکتا ہے بغیرطلاق کے،اور ولی اور گواہان ونکاح خوانِ نکاح ثانی کے واسطے حکم شرع کیا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
ناتا دینا عرف میں منگنی کرنے کو کہتے ہیں اور منگنی نکاح نہیں،اس صورت میں جب تك عقد نکاح نہ ہو والدِ دختر دوسری جگہ اس کا نکاح کرسکتا ہے اور نکاح خواں وغیرہ پر کوئی الزا م نہیں،اور اگرکہیں کے عرف میں ناتا کرنا نکاح کردینے کو بھی کہتے ہیں تو وہاں دیکھا جائے گا کہ وہ مجلس جس میں یہ الفاظ ادا ہوئے عقد نکاح کے لیے تھی یامنگنی کے لیے،اگر منگنی کے لیے تھی تو وہی حکم ہے کہ نکاح نہ ہوا،اور والدِ دختر کو اختیار ہے،اور اگر نکاح کے لیے تھی اور حاضرین میں سے کم از کم دو شخصوں نے اس نکاح کے گواہ ہوسکتے ہوں وہ ایجاب و قبول سنے اور سمجھے کہ یہ نکاح ہورہا ہے تو نکاح ہوگیا اب دوسری جگہ اس کا نکاح نہیں ہوسکتا،والد دختر اور نکاح خواں اور گواہان نکاح ثانی جن کو معلوم تھاکہ اس کا نکاح پہلے ہوچکا ہے سب مبتلائے حرام ہوں گے،درمختار میں ہے:
|
ھل اعطیتنیھا ان المجلس للنکاح فنکاح وان للوعد فوعد [1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
اگر ایك نے دوسرے کو کہا کیا تونے مجھے دی،دوسرے نے جواب میں"دی"کہا تواگر یہ مجلس نکاح ہو تو نکاح ہوگا،اور اگر مجلس وعدہ ہے تو منگنی ہوگی،والله تعالٰی اعلم۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع