30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دادند کہ بعد منگنی دختر دیگر جائے نکاح کردن مے تواند حقیر ناجائر پندارد چراکہ ایجاب وقبول از جانبین ثبوت شود از جانب بچہ گویند کہ"دے دو"از جانب دختر گویند"دے دیا ودے چکا یاسگائی کرچکا"ایں الفاظ برائے وضع عقدست اگرایں طور گویند کہ"دیں گے"تو خیر،جنا ب مولایم عجیب افسوس کہ دیوبندی خذلہم الله دین اوخراب ومسلمان رانیز بیخ کنی کردند اگر ایں فتوٰی غلط باشد از ایشاں ہزاراں نطفہ زنا درعالم منتشر شدہ تدارك ایں عمل بفرمایند۔ |
علماء فتوی دیتے ہیں کہ منگنی کے بعد لڑکی کا دوسری جگہ نکاح جائز ہے لیکن یہ ناچیز ا س کو ناجائز سمجھتاہے کیونکہ ایجاب وقبول جانبین سے ثابت ہوجاتا ہے لڑکے والے"دے دو"کہتے ہیں اور لڑکی والے"دے دی"یا"دے چکا"کہتے ہیں یا"سگائی کرچکا"کہتے ہیں،یہ الفاظ عقد نکاح کے لیے وضع ہیں،ہاں اگر لڑکی والے"دیں گے"کہیں توخیر ہے،جناب میرے آقا عجیب افسوس ہے کہ دیوبندی جن کا دین خود خراب ہے وہ مسلمانوں کی بیخ کنی کر رہے ہیں،اگر علماء کا یہ فتوٰی غلط ہو تو ان کی وجہ سے دنیامیں ہزاروں نطفہ زنا پھیلے ہوئے ہیں اس لیے اس عمل کا تدارك فرمادیں(ت) |
الجواب:
|
وعیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ،لفظ"سگائی کرچکا"خود ظاہر است سگائی نسبت و وعدہ عقد راگویند نہ عقدرا"دے دیا"یا"دے چکا"از انجا کہ مجلس مجلس وعدمی باشد نہ مجلس عقد ہمیں بر وعد محمول می شود نہ بر عقد درشرح امام طحاوی وفتح و در مختار و ردالمحتار ست لوقال ھل اعطیتنیھا فقال اعطیت ان کان المجلس للوعد فوعد وان کان للعقدفنکاح [1] وچہ گونہ نکاح شود حالانکہ شرط او حضور دو گواہ ست کہ فہمند کہ ایں نکاح ست فی التنویر والدر وشرط حضور شاہدین فاھمین انہ نکاح علی المذھب بحر[2]واینجا |
وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ،"سگائی کرچکا"کا لفظ خود ظاہر کرتا ہے کہ"سگائی"نسبت اور وعدہ نکاح کو کہتے ہیں نہ کہ نکاح کو،لڑکی والوں کا دے دیا یا دے چکا کہنامجلس وعد میں وعدہ پر محمول ہوگانہ کہ عقد نکاح پر،امام طحاوی کی شرح،فتح،درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ اگر مر د نے کسی کو کہاکہ تو نے مجھے لڑکی دی،توا س نے جواب میں کہاکہ میں نے دی،تو اگر یہ مجلس وعدہ اور منگنی ہو تو وعدہ اور منگنی ہے اور اگر مجلس عقد ہے تو نکاح ہے،پھر مسئولہ صورت میں نکاح کیسے ہوسکتا ہے جبکہ نکاح کے لیے دوگواہوں کی موجودگی بایں طور پر شرط ہے کہ وہ اس کو نکاح سجھیں۔ تنویر اور در |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع