دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 11 | فتاوی رضویہ جلد ۱۱

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۱

دادند کہ بعد منگنی دختر دیگر جائے نکاح کردن مے تواند حقیر ناجائر پندارد چراکہ ایجاب وقبول از جانبین ثبوت شود از جانب بچہ گویند کہ"دے دو"از جانب دختر گویند"دے دیا ودے چکا یاسگائی کرچکا"ایں الفاظ برائے وضع عقدست اگرایں طور گویند کہ"دیں گے"تو خیر،جنا ب مولایم عجیب افسوس کہ دیوبندی خذلہم الله دین اوخراب ومسلمان رانیز بیخ کنی کردند اگر ایں فتوٰی غلط باشد از ایشاں ہزاراں نطفہ زنا درعالم منتشر شدہ تدارك ایں عمل بفرمایند۔

علماء فتوی دیتے ہیں کہ منگنی کے بعد لڑکی کا دوسری جگہ نکاح جائز ہے لیکن یہ ناچیز ا س کو ناجائز سمجھتاہے کیونکہ ایجاب وقبول جانبین سے ثابت ہوجاتا ہے لڑکے والے"دے دو"کہتے ہیں اور لڑکی والے"دے دی"یا"دے چکا"کہتے ہیں یا"سگائی کرچکا"کہتے ہیں،یہ الفاظ عقد نکاح کے لیے وضع ہیں،ہاں اگر لڑکی والے"دیں گے"کہیں توخیر ہے،جناب میرے آقا عجیب افسوس ہے کہ دیوبندی جن کا دین خود خراب ہے وہ مسلمانوں کی بیخ کنی کر رہے ہیں،اگر علماء کا یہ فتوٰی غلط ہو تو ان کی وجہ سے دنیامیں ہزاروں نطفہ زنا پھیلے ہوئے ہیں اس لیے اس عمل کا تدارك فرمادیں(ت)

الجواب:

وعیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ،لفظ"سگائی کرچکا"خود ظاہر است سگائی نسبت و وعدہ عقد راگویند نہ عقدرا"دے دیا"یا"دے چکا"از انجا کہ مجلس مجلس وعدمی باشد نہ مجلس عقد ہمیں بر وعد محمول می شود نہ بر عقد درشرح امام طحاوی وفتح و در مختار و ردالمحتار ست لوقال ھل اعطیتنیھا فقال اعطیت ان کان المجلس للوعد فوعد وان کان للعقدفنکاح [1] وچہ گونہ نکاح شود حالانکہ شرط او حضور دو گواہ ست کہ فہمند کہ ایں نکاح ست فی التنویر والدر وشرط حضور شاہدین فاھمین انہ نکاح علی المذھب بحر[2]واینجا

وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ،"سگائی کرچکا"کا لفظ خود ظاہر کرتا ہے کہ"سگائی"نسبت اور وعدہ نکاح کو کہتے ہیں نہ کہ نکاح کو،لڑکی والوں کا دے دیا یا دے چکا کہنامجلس وعد میں وعدہ پر محمول ہوگانہ کہ عقد نکاح پر،امام طحاوی کی شرح،فتح،درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ اگر مر د نے کسی کو کہاکہ تو نے مجھے لڑکی دی،توا س نے جواب میں کہاکہ میں نے دی،تو اگر یہ مجلس وعدہ اور منگنی ہو تو وعدہ اور منگنی ہے اور اگر مجلس عقد ہے تو نکاح ہے،پھر مسئولہ صورت میں نکاح کیسے ہوسکتا ہے جبکہ نکاح کے لیے دوگواہوں کی موجودگی بایں طور پر شرط ہے کہ وہ اس کو نکاح سجھیں۔ تنویر اور در

 


 

 



[1] فتح القدیر کتاب النکاح مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٣/١٠٣

[2] درمختار شرح تنویر الابصار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ١/١٨٦

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن