30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایجاب وقبول ہوا ہے توایسانکاح درست ہوا یا نہیں؟ نیز اس کا اصل باپ یعنی زید جو زندہ موجود ہے بروقت نکاح نہ اس سے اجازت لی گئی نہ اسے اطلاع دی صورت مسؤلہ میں اگر نکاح نہیں ہوا تو کیا ہندہ اپنی منشا کے موافق اپنے کفو میں نکاح ثانی کرسکتی ہے،ایام عدت کی قید ہے یا نہیں،؟ ہندہ بـالغہ ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب:
اگر ہندہ اس جلسہ نکاح میں حاضر نہ تھی اورا س کی طرف اشارہ کرکے نہ کہا گیا کہ اس ہندہ بنت بکر کا نکاح تیرے ساتھ کیا بلکہ ہندہ کی غیبت میں یہ الفاظ کہے گئے توہندہ کانکاح نہ ہوا۔ نہ اسے طلاق کی حاجت نہ عد ت کی ضرورت جس سے چاہے اپنا نکاح کرسکتی ہے کہ نکاح تو ہندہ بنت بکر کا ہوا اور یہ ہندہ بنت بکر نہیں،ہاں اگر بکرنے اسے پرورش یا متبنی کیا تھا اور وہ عرف میں ہندہ بنت بکر کہی جاتی ہے اور اس کے کہنے سے اس کی طرف ذہن جاتا ہے تونکاح ہوگیااب بغیرطلاق ہندہ کو مخلص نہیں۔ درمختار میں ہے:
|
غلط وکیلھا بالنکاح فی اسم ابیھا بغیر حضور ھا لم یصح [1]۔ |
لڑکی کی غیر موجود گی میں اس کے وکیل نے لڑکی کے باپ کا نام غلط کہہ دیا تونکاح صحیح نہ ہوگا۔(ت) |
عالمگیری میں ہے:
|
قال امرأتہ عمرۃ بنت صبیح طالق وامرأتہ عمرۃ بنت حفص ولانیۃ لہ لاتطلق امرأتہ فان کان صبیح زوج اُم امرأتہ وکانت تنسب الیہ وھی فی حجرہ فقال ذٰلك وھو یعلم نسب امرأتہ اولایعلم طلقت امرأتہ [2]۔ |
کسی شخص نے طلاق دیتے وقت اپنی بیوی کا نام عمرہ بنت صبیح کو طلاق کہا جبکہ اسکی بیوی کا نام عمرہ بنت حفص ہے توطلاق کے وقت ا س شخص نے کوئی نیت نہ کی تو اس کی بیوی کوطلاق نہ ہوگی،اور اگر اس کی بیوی عمرہ کی ماں کے دوسرے خاوند کا نام صبیح تھا اور یہ عمرہ اپنی ماں کے ساتھ صبیح کی پرورش میں رہی اس وجہ سے عمرہ صبیح کی طرف منسوب ہوتی ہے اور خاوند کو عمرہ کے اصل نسب کا علم ہے دونوں صورتوں میں اس کی بیوی عمرہ کوطلاق ہوجائیگی۔ (ت)والله تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ٦١: از میرٹھ بازار محلہ سوتی گنج مرسلہ مولوی محمد افضل صاحب کا بلی تعلیم یافتہ مدرسہ منظر اسلام بریلی امام مسجد سوتی گنج ٢ شوال ١٣٣٩ھ
|
چہ مے فرمایند دریں مسئلہ کہ در ملك ہند علماء فتوٰی |
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندوستان کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع