30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
زید کا بے اطلاع ہندہ سیاہہ میں اس کے ساتھ اپنانکاح ہونا درج کرادینا نکاح نہیں، نہ ہندہ کاکہناکہ اگر تم کہتی ہو کہ نکاح ہوگیا تو جو کچھ ہوناتھا ہوگیا کسی طرح حد نکاح میں آسکتاہے توہندہ ضرور بے نکاحی تھی، رہی دارالقضا کی ڈگری، اس کی تفصیل معلوم ہونی ضرور دعوٰی کہ اس میں ہوا شرائط شرعیہ پر صحیح تھا یا نہیں، ثبوت کیا گزرا اور وہ قوانین شرعیہ پر صحیح تھایا نہیں، حکم کس نے دیا، اور وہ قاضی عند الشرع تھا یا نہیں، اگر ان میں سے ایك بات بھی کم ہے ہندہ بدستور بے نکاحی ہے زید کو اس پرکوئی دعوٰی نہیں پہنچتا۔ والله تعالٰی اعلم۔
(اس کے بعد پھر وہیں سے سوال آیا جو مع جواب منقول ہے)
یہ واقعہ حیدر آباد دکن کا ہے وہاں حکومت کی طرف سے عدالت قضا قائم ہے جس میں طلاق، خلع، ترکہ، مہر، طلب زوجہ کے مقدمات حسب قانون شرع شریف دائر ہوتے اور فیصل ہوتے ہیں مگر قاضی صاحب جنھوں نے اس مقدمہ کوفیصل کیا ہے غیر متشرع تھے یعنی داڑھی منڈی ہوئی لباس کوٹ پتلون مگر ساتھ ہی اس کے سفارش رشوت سے قطعی اجتناب رکھتے تھے اور گواہان جیسے فی زماننا حالت ہے اور ناکح صاحب بھی بہت معمولی طور پر پڑھے ہوئے ہیں لہذا اس صورت واقعہ پرمسئلہ بالا کا کیا جواب ہوگا؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
جبکہ وہ قاضی منجانب سلطنت اسلامیہ فصل قضا پر مقررہے، اگر اس کے یہاں دعوٰی بروجہ صحیح شرعی ہوا اور ثبوت بروجہ شرعی گزرا اور قاضی نے ثبوت نکاح کا حکم دیا تونکاح ثابت ہوگیا، ہندہ بغیر موت یا طلاق دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی۔
|
کما فی الھدایۃ وتنویر الابصار[1]وغیرھا من معتمدات الاسفار ورجحہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر وقد قال امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ الکریم شاھداك زوجاک[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جیسا کہ ہدایہ، تنویر الابصار وغیرہما کتب معتمدہ میں ہے اورفتح القدیر میں محقق علی الاطلاق نے اس کو ترجیح دی ہے، اور حضرت علی مرتضٰی رضی الله تعالٰی عنہ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ تجھے تیرے گواہوں نے بیاہ دیا ہے۔ (ت) والله تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ٦٠: ازر یاست جاورہ، لال املی مسئولہ ممتاز علی خاں اہل کار حساب ٢ شوال ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کی صحیح ولدیت زید ہے اور بوقت نکاح بکر قائم کرکے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع