30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کما فی الدرالمختار والفتاوی العالمگیریۃ وغیرھما۔ |
مرتدہ سے بھی نکاح جائز نہیں، جیسا کہ درمختار اور فتاوٰی عالمگیری وغیرہما میں ہے۔ (ت) |
اگرعورت سنیہ رہی اور ہنوز خلوت نہ ہوئی تھی تو ابھی اور ہو چکی تھی تو بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے، اگر شوہر اسلام لے بھی آئے اس پر کچھ اختیا رنہیں رکھتا لان المنفسخ لایعود (کیونکہ فسخ شدہ نکاح بحال نہیں ہوسکتا۔ ت) اگر عورت معاذالله ان میں کی ہوگئی اور مرد سنی رہا تو نکاح تو فسخ نہ ہوا علی مافی النوادر وحققنا الافتاء بہ فی ھذا الزمان فی فتاوٰنا(نوادر کی روایت کے مطابق اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے کہ اس زمانہ میں فتوٰی یہی ہے۔ ت) مگر مرد کو اس سے قربت حرام ہوگئی جب تك اسلام نہ لائے لان المرتد لیست باھل ان یطأھا مسلم اوکافر او احد(کیونکہ مرتد عورت ا س قابل نہیں رہی کہ کوئی بھی اس سے وطی کرے خواہ مسلمان مرد ہو یا کافر یا کوئی بھی ہو۔ ت)ان مسائل کی تحقیق رسالہ ردالرفضہ میں ہے۔ والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٥٣: از نگینہ مرسلہ عبدالرشید صاحب سوداگر سب ایجنٹ برہما آئل کمپنی
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی عورت کا نکاح کسی ایسے شـخص سے ہو جس کی ایك عورت اور بچے ہوں اور وہ شخص معاش اس قدرکافی رکھتا ہو کہ ان سب کی پرورش کے لیے نہایت کافی ہو، مرد میں کسی قسم کا نقص نہ ہو، عورت بوقت نکاح بالغ ہو، مہر ایك ہزار روپیہ ہو، نکاح مکان منکوحہ پر ہو جس کو عرصہ تین سال پانچ ماہ ہوئے ہوں شوہر نے بعد عقد پندرہ بیس مرتبہ مختلف اوقات میں کئی کئی یوم قیام کیا، کیا عورت منکوحہ کو تنسیخ نکاح کا دعوٰی کرنے کا حق ہے؟ بیان منکوحہ حسب ذیل ہے: میری پیدائش ایك ماہ بعدا نتقال والدہوئی میں نے آغوش مادر میں پرورش پائی اور ہنوز والدہ کے پاس رہی، میری والدہ نے ا س شخص کے ساتھ عقد کردیا، شخص مذکور نے یہ دھوکا دیاکہ نہ میری بیوی ہے نہ بچے، میری والدہ کے انتقال کو دو ماہ کاعرصہ ہوا، میں والدہ کی وجہ سے مجبور تھی، اب میں خودمختار ہوں، بیان شوہر میں نے بیوی بچے ہونے کا اقرار کیا اور چھپایا نہیں، اس کا علم منکوحہ اور ان کے جملہ رشتہ داران کو ہے جس کی بابت تحریریں شوہر کے پاس ہیں ایسی حالت میں منکوحہ عورت کے صرف بیان پرکہ میرے شوہر کے پاس اور بیوی بچے موجود ہیں اور شوہر نے دھوکا دیا، نکاح میری لاعلمی میں ہوا، کیا حکم شرع شریف ہے؟
الجواب:
عورت کے عذرات باطل ہیں، برسوں سکوت ومعاملہ زن و شوئی کے بعد یہ مہملات پیش کرتی ہے، ماں کی زندگی کیا باعث مجبوری تھی، نہ بی بی بچوں کا عذر قابل سماعت۔ نہ مجبوری مانع جواز نکاح، اس پر فرض ہے کہ شوہر کی اطاعت کرے، اس شیطانی خیال سے باز آئے، والله تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع